خزانہ، افراطِ زر اور ٹیکس نظام پر ترکی کا نیا اصلاحاتی ایجنڈا

0 704

31 مارچ کے بلدیاتی انتخابات کے بعد ترکی فوری حل طلب مسائل سے نمٹنے کے لیے ساڑھے 4 سال کے جامع اصلاحاتی دور میں داخل ہو چکا کہ جس میں مالیاتی ڈھانچے، افراطِ زر، ٹیکس نظام اور زرعی پیداوار کی اصلاحات شامل ہیں جبکہ ساتھ ہی مسلسل نمو اور اضافی برآمدات، سیاحت سے آمدنی اور لاجسٹکل آپریشنز کو یقینی بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔ نئے اصلاحاتی پیکیج، کہ جس انتخابات سے بھی پہلے سے انتظار کیا جا رہا ہے، کی رونمائی گزشتہ روز وزیر خزانہ و مالیات جناب بیرات البیرک نے کی۔ وزیر نے تذکرہ کیا کہ ستمبر 2018ء میں شروع کیے گئے نئے اقتصادی پروگرام (NEP) نے آزاد مارکیٹ کے قواعد، سخت مالیاتی پالیسی، مسلسل نمو، بہتر ٹیکس نظام اور نقدی پالیسی کی مالیاتی پالیسی سے ہم آہنگی جیسے ضروری اقدامات کے نفاذ کے لیے بنیاد ڈالی۔

"ہم اس اصلاحاتی پروگرام کے ساتھ اہداف حاصل کرنے اور حالات میں تبدیلیاں پانے جا رہے ہیں۔” البیرک نے کہا۔ ترکی عظیم تر اور زیادہ طاقتور بننے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ڈھانچے میں اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھے گا، وزیر خزانہ و مالیات نے بدھ کو کہا۔ "یہ تبدیلی اور اصلاحات کا عمل ساڑھے 4 سال تک مسلسل جاری رہے گا کہ جس دوران کوئی انتخابات نہیں،” نئے اصلاحاتی پیکیج کی توجہ بینکاری اور مالیات کے شعبوں پر ہوگی۔

اصلاحات بینکاری سے انشورنس تک تمام مالیاتی شعبوں میں ہوں گی اور نجی و سرکاری دونوں کے ڈھانچے مضبوط کریں گی۔ مالیاتی شعبے کے علاوہ اصلاحاتی کوششوں کا دوسرا حصہ افراطِ زر پر توجہ کرے گا، جو اکتوبر 2018ء میں 25 فیصد کی انتہائی بلندی تک پہنچ گئی تھیں اور مارچ میں کم ہوتے ہوتے 19.71 فیصد پر آ گئیں۔ البیرک نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اشیائے خورد و نوش میں افراطِ زر کو کم کرنے کے لیے حکومت زرعی پالیسی میں بنیادی اصلاحات کرے گی۔ "ہم زراعت میں نیشنل یونٹ پیش کرنے جا رہے ہیں، جو اس سلسلے میں اہم ترین بنیادی اصلاح ہوگی۔”

ترکی کی آئندہ اصلاحات عدالتی دائرے میں بھی ہوں گی۔ شفاف اور مؤثر قانونی نظام اور مضبوط و مسلسل اقتصادی ترقی کے درمیان تعلق بالکل واضح ہے،” البیرک نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ایک ایسے عدالتی نظام کو یقینی بنانے کے ہدف کے ساتھ کہ جو سرمایہ کاری کے ماحول کا ساتھ دے اور سرمایہ کار کو اعتماد بخشے، وزارتِ انصاف عدالتی اصلاح کی حکمتِ عملی ترتیب دے رہی ہے۔”

مالیات

– قرض دینے والے سرکاری اداروں کا ڈھانچہ مضبوط کرنا پہلا قدم ہوگا۔ خزانہ سرکاری بینکوں کی گوشوارے بہتر بنانے کے لیے سرکاری قرضے کی سکیورٹیز میں سے 28 ارب ترک لیرا جاری کرے گا۔

– بینکس ایسوسی ایشن آف ترکی (TBB) کی زیر قیادت نجی بینکوں کے گوشوارے debt-equity مبادلے کے ذریعے مضبوط کیے جائیں گے۔

– کل نقد قرضوں اور غیر جاری کردہ قرضوں کا تناسب – جو کم ہو تو بہتر ہے – فروری میں 4.11 فیصد تھا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 2.92 فیصد تھا۔

– توانائی کی صنعت کے لیے ایک وینچر کیپٹل فنڈ اور ریئل اسٹیٹ فنڈ بنائے جائیں گے۔

– معیشت میں موجود کمزوریوں کے خاتمے کے لیے ریاست سے لے کر انفرادی سطح تک بچت کو بڑھانے اور ایک مؤثر و صحت مند بچت نظام بنانے کا آغاز کیا جائے گا۔

– ٹیکس کے ایک زیادہ ترقی پسندانہ ڈھانچے کو یقینی بنایا جائے گا کہ جہاں بالواسطہ ٹیکس کم کیے جائیں گے اور بلاواسطہ ٹیکس بڑھائے جائیں گے۔ نیا ٹیکس نظام کارپوریٹ ٹیکس کو مرحلہ وار کم کرے گا اور اس کا بنیادی ہدف مزید ملازمتیں پیدا کرنا ہوگا۔

افراطِ زر

– اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھنے اور وقتی اتار چڑھاؤ سے افراطِ زر کو بڑھاوا ملا۔ مارچ میں گو کہ افراطِ زر 16.71 فیصد تھی، لیکن اشیائے خورد و نوش اور نان-الکحلک مشروبات پر افراطِ زر 29.177 فیصد کے ساتھ 30 فیصد کے قریب تھی۔

– افراطِ زر کو کم کرنے کے لیے ایک گرین ہاؤس کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ وہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کے میدان میں توازن پیدا کرنے والے عنصر کے طور پر کام کرے۔ ابتدائی طور پر 2019ء میں اس ادارے کی جانب سے لگ بھگ 2،000 ہیکٹر پر ایک ٹیکنالوجیکل گرین ہاؤس بنایا جائے گا تاکہ طویل مدت میں ملک کی کل گرین ہاؤس پیداوار کو 25 فیصد تک پہنچائے۔

– اگلے مہینے وزارت زراعت و جنگلات زراعت پر ایک نیشنل یونِٹی پروجیکٹ کا اجراء کرے گا تاکہ اشیائے خورد و نوش کی قیمت کی افراطِ زر کا مقابلہ کرے۔

– سرخ گوشت کی قیمت کے استحکام کو "بھیڑوں اور بکریوں کی فارمنگ” کے ذریعے سہارا دیا جائے گی۔ حکومتی سہولیات کی بدولت ترکی میں بھیڑوں اور بکریوں کی تعداد چار سالوں میں 100 ملین تک پہنچ جائے گی۔

– سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھیڑوں کی تعداد گزشتہ سال 4.1 فیصد اضافے کے ساتھ 46.1 ملین تک پہنچی۔

لاجسٹکس

– ترکی کو تجارت کے لیے علاقائی مرکز بنانے کی خاطر وزارت ٹرانسپورٹ اور ترکی ویلتھ فنڈ آئندہ کے لیے لاجسٹکس ماسٹر پلان تشکیل دیں گے۔

– 2016ء میں قائم ہونے والا فنڈ متعدد ترک اداروں کے تمام یا کچھ حصص رکھتا ہے جیسا کہ ترکش ایئرلائنز، ٹیلی کمیونی کیشنز کے بڑے ادارے ترک ٹیلی کام، سرکاری بینک زراعت بینک اور خلق بینک، تیل کی کمپنی ترکش پیٹرولیئم اور اسٹاک مارکیٹ بُرصہ استنبول۔

– لاجسٹکس ماسٹر پلان بین الاقوامی مارکیٹوں میں ترکی کی مقابلے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے لاجسٹکس کے شعبے اور اسٹریٹجک ترجیحات کی ضروریات تلاش کرے گا۔

– ترکی 41 ممالک اور ترکی سے باہر واقع 78 شہروں سے صرف 3 گھنٹے کی پرواز کی دُوری پر واقع ہے۔ چار گھنٹے کی پرواز کے ذریعے 53 ممالک اور 118 شہروں تک پہنچا جا سکتا ہے جبکہ پانچ گھنٹے کی پرواز سے ترکی سے 66 ممالک اور 143 شہروں تک رسائی ممکن ہے۔

– ترکی کا جغرافیائی مقام بین الاقوامی تاجروں کو یورپ، یوریشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی مارکیٹ کے 1.7 ارب صارفین تک رسائی کی سہولت دیتا ہے کہ جن کا اقتصادی حجم 25 ارب ڈالرز ہے۔

سیاحت

– وزارتِ سیاحت نے 2023ء سیاحت ہدف کو بڑھانے کے لیے ماسٹر پلان پر کام شروع کردیا ہے: یہ ہدف 70 ملین سیاحوں کی میزبانی اور سیاحت سے 70 ارب ڈالرز کمانا ہے۔ سیاحت ماسٹر پلان آئندہ ستمبر میں وزیر محمد ارصوئے کی جانب سے پیش کیا جائے گا۔

– ماسٹر پلان کے مطابق ترکی کا ہدف سیاحت کو کھانے پینے، مذہبی، گالف، ثقافتی، موسم سرما کے کھیلوں اور اجلاسوں کے زمروں تک پھیلانا چاہتا ہے۔

– ایک ٹؤرازم ڈیولپمنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا تاکہ ترکی کو سیاحت کے لیے اہم ترین مقام کی حیثیت سے مؤثر انداز میں فروغ دیا جائے۔ فنڈ سیاحتی مقامات میں علاقائی تنوع کو یقینی بنا کر سیاحتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا۔

– اس سال ترکی 50 ملین سیاحوں اور آمدنی میں 35 ارب ڈالرز سے زائد کی توقع رکھتا ہے۔

– گزشتہ سال ترکی نے 39.5 ملین غیر ملکی سیاحوں کا خیرمقدم کیا جو سال بہ سال میں 21.84 فیصد اضافہ تھا۔ ملکی سیاحت کی آمدنی 12.3 فیصد بڑھ کر 29.5 ارب ڈالرز تک جا پہنچی۔

برآمدات

– برآمدات کے فروغ کے لیے ایک اور ماسٹر پلان وزارت تجارت کی جانب سے بنایا جائے گا اور اس کی رونمائی اگست میں ہوگی۔

– ماسٹر پلان طویل المیعاد برآمدی صلاحیت کو طے کرے گا اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کرے گا۔ منصوبہ برآمدات سے درآمدات کے تناسب کو یقینی طور پر بڑھانے کے لیے بھی حکمت عملیاں مرتب کرے گا۔ زیادہ مالیت کی اضافی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا اور یونٹ قیمتوں میں اضافہ کرنا بھی ہدف ہے۔

– ترکی کی برآمدات 2018ء میں 7.1 فیصد کے سال بہ سال اضافے کے ساتھ 168.1 ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح پر پہنچیں، جنہوں نے غیر ملکی تجارتی خسارے کو 28.4 فیصد تک گھٹا کر 55 ارب ڈالرز تک پہنچانے میں مدد دی۔

– اصلاحاتی پیکیج میں صنعتی پیداواریت کی لوکلائزیشن کو پھیلانا بھی شامل ہے۔ وزارت صنعت و ٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D)، سرمایہ کاریوں کے مؤثر انتظام، رسد و طلب کے اجزاء کو سہارنے اور درمیانی-اعلیٰ اور اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کو بنانے کے لیے حکمت عملیوں کے نفاذ کو یقینی بنائے گی۔ یہ پروگرام 300 مصنوعات کو مقامی سطح پر تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

عدلیہ

– دیگر اصلاحات میں نئے عدالتی ضوابط شامل ہیں جو ایک قابلِ رسائی نظام کو یقینی بنائیں گے۔ اس ہدف کے مطابق وزارت انصاف اِس وقت عدالتی اصلاحات کی حکمت عملی کو جدید بنانے پر کام کر رہی ہے کہ جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

– عدالتی اصلاحات اس امر کو نظر میں رکھ کر نافذ کی جائیں گی کہ پورے معاشرے کی یکساں اقتصادی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے قانون اور معیشت ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں۔

– طویل المیعاد سرمایہ کاریوں کا انحصار کیونکہ ایسے عدالتی عمل پر ہوتا ہے جس کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے ترکی کی نئی عدالتی اصلاحات اعلیٰ معیار کے اور مؤثر نظام کو تخلیق کرنے کی ضرورت پوری کریں گی۔

– عدالتی اصلاحات کی حکمت عملی پہلی بار 2011ء میں ترک عدلیہ کو یورپی یونین سے ہم آہنگ کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ عدالتی اصلاحات کی حکمتِ عملی کا نفاذ شروعات سے اب تک ترکی میں مالیاتی، سماجی و سیاسی میدانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق بھی عدلیہ میں چند بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔

تبصرے
Loading...