کابل، ترک سفارت خانے نے اپنی عمارت سے کام شروع کر دیا

0 153

کابل میں ترک سفارت خانے نے دوبارہ اپنی عمارت سے کام شروع کر دیا ہے اور انقرہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں سفارتی سطح پر اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔

دو ہفتے قبل طالبان کی کامیابی کے بعد نیٹو کے رکن ممالک ایک، ایک کر کے اپنے سفارت خانے خالی کر گئے ہیں۔ ترکی نے بھی افغانستان سے اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نکال تو لیا ہے، لیکن ایک مختصر دستہ اب بھی موجود ہے۔

مونٹی نیگرو سے وطن واپسی کے دوران ایک انٹرویو میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترک سفارت خانہ دو ہفتے تک کابل ایئرپورٹ پر خدمات انجام دینے کے بعد اب شہر کے مرکز میں واقع اپنی عمارت میں منتقل ہو گیا ہے۔ اب عملہ تمام سرگرمیاں اسی عمارت سے جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ اسی طرح کابل میں اپنی سفارتی موجودگی برقرار رکھیں۔ البتہ امن و امان کی صورت حال میں کسی تبدیلی کے ساتھ اس منصوبے میں بھی رد و بدل ہوتا رہے گا۔

کابل ایئرپورٹ کا معاملہ، اونٹ ابھی تک کسی کروٹ نہیں بیٹھا

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی محتاط رہتے ہوئے اور امید کے ساتھ طالبان کے بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے، لیکن ہم انہیں باتوں سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات اٹھاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں صدر نے کابل ایئرپورٹ کے انتظامات سنبھالنے کی ترکی کی خواہش پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کابل ایئرپورٹ کے معاملات چلانا چاہتا تھا جبکہ تحفظ کی ذمہ داری طالبان کی ہوتی، لیکن اب اگر ہوائی اڈے پر کوئی دوسرا حملہ ہوتا ہے تو انقرہ سخت مشکل سے دو چار ہو جائے گا۔ "ہم تحفظ کی ذمہ داری کیسے دے سکتے ہیں؟ ہم دنیا کو کیسے قائل کریں گے کہ حفاظتی معاملات آپ سنبھالیں اور اس دوران ایک اور قتلِ عام ہو جائے؟ یہ آسان کام نہیں ہے۔”

واضح رہے کہ جمعرات کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے خود کش حملے میں 100 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے جس کی وجہ سے آخری لمحات میں انخلا کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اب امریکا کو خطرہ ہے کہ انخلا کی ڈیڈ لائن قریب آتے آتے مزید ایسے حملے بھی ہو سکتے ہیں۔

تبصرے
Loading...