اگر S-400 کی خریداری پر امریکا نے پابندیاں لگائیں تو ترکی ردعمل دکھائے گا، وزیر خارجہ

0 412

اگر امریکا نے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے پر پابندیوں کا نشانہ بنایا تو ترکی ردعمل دکھائے گا، وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا کہ کوئی بھی پابندی ناقابلِ قبول ہوگی۔

ایک انٹرویو میں مولود چاؤش اوغلو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پابندیاں لگانا نہیں چاہتے اور وہ توقع نہیں رکھتے کہ امریکی انتظامیہ ایسا کوئی قدم اٹھائے گی۔

ٹرمپ منگل کو GOP سینیٹرز کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے کہ جس میں ترکی پر ممکنہ پابندیوں پر گفتگو ہوگی۔ کچھ ری پبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کریں جس کے لیے Countering America’s Adversaries Through Sanctions Act کا استعمال کریں کہ جو روس سے فوجی آلات خریدنے والے ممالک کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ قانون، جس پر ٹرمپ نے 2017ء میں دستخط کیے، صدر کو 12 میں سے پانچ پابندیوں کے انتخاب کا اختیار دیتا ہے جن میں ویزے پر پابندی اور امریکا میں قائم ایکسپورٹ-امپورٹ بینک تک رسائی روکنے سے لے کر امریکا کے مالیاتی نظام میں مالی لین دین سے روکنے اور ایکسپورٹ کے لائسنس دینے سے انکار جیسی سخت پابندیاں تک شامل ہیں۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ F-35 جیٹ پروگرام کے شراکت دار ترکی کو نکالنے کے امریکی فیصلے سے متفق نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر واشنگٹن F-35 جیٹ طیارے نہیں دیتا تو ترکی اپنی ضروریات کہیں اور سے پوری کرے گا۔

S-400 اگلے سال کے اوائل میں متحرک ہو جائے گا، وزیر خارجہ نے مزید کہا۔

چاؤش اوغلو نے سنیچر کو اپنے امریکی ہم نصب مائیک پومپیو کے ساتھ F-35 پروگرام سے ترکی کے اخراج کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

انقرہ کی جانب سے روسی میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے منصوبے پر ترکی اور امریکا کے درمیان تناؤ کئی ماہ سے موجود ہے۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے اعلان کیا کہ ترکی کو F-35 فائٹر جیٹ پروگرام سے نکال دیا گیا ہے اور اگر وہ روسی ساختہ S-400 خریدنے کے منصوبے ترک نہیں کرتا تو اسے پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ سے F-35 پروگرام ترکی کو نکالنےکے عمل کا آغاز کردیا۔ مارچ 2020ء تک یہ عمل مکمل ہو جائے کا۔

دوسری جانب S-400 کے پرزوں کی آمد جولائی کے دوسرے ہفتے سے شروع ہو چکی ہے اور درجن بھر ہوائی جہاز مختلف ساز و سامان کے ساتھ ترکی پہنچ چکے ہیں۔

چاؤش اوغلو نے سوموار کو انقرہ میں شام کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر جیمز جیفری کے ساتھ ملاقات کی۔ انہوں نے کہا انہیں جنگ سے متاثرہ ملک میں ایک مجوزہ سیف زون کے لیے معاہدے کی بہت امیدیں ہیں۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر مجوزہ سیف زون نہ بنایا گیا اور ترکی کو خطرات بدستور موجود رہے تو دریائے فرات کے مشرقی کنارے سے امریکی حمایت یافتہ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے اخراج کے لیے ایک آپریشن شروع کیا جائے گا۔

ترکی بہت عرصے سے دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر YPG کے مقبوضہ علاقوں پر ایک ممکنہ چڑھائی کا اشارہ دے رہا ہے۔ البتہ گزشتہ دسمبر نے حکومت نے اس دہشت گرد گروہ کے سب سے بڑے حامی واشنگٹن کے اس فیصلے کے بعد کہ وہ شام سے اپنی فوجیوں نکال لے گا، یہ آپریشن مؤخر کردیا تھا۔ فوری طور پر سمجھا گیا کہ اس فیصلے سے امریکا کی جانب سے YPG کی حمایت رک جائے گی جسے ترکی ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ لیکن بعد ازاں ظاہر ہوا کہ ان دہشت گردوں کی حمایت جاری رہے گی اور فوج نکالنے کے حوالے سے بھی حکام نے مختلف متصادم بیانات دیے، تب سے انقرہ اور واشنگٹن ترکی کے سکیورٹی خدشات کو ختم کرنے کے لیے 32 کلومیٹر طویل سیف زون بنانے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ البتہ اب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

تبصرے
Loading...