ادلب میں بشارالاسد کو منہ توڑ جواب دے دیا، اور جاری رکھیں گے، روس راستے میں نہ آئے، ایردوان

0 2,956

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے یوکرائن جانے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس، ترک فوج کے سامنے آنے سے احتراز کرے کیونکہ ترکی بشار الاسد سے انتقام لے کر رہے گا جس نے 4 ترک فوجیوں کو شہید جبکہ 9 کو زخمی کر دیا ہے۔

ترک صدر ایردوان نے کہا کہ اس سلسلے میں ترکی نے ادلب میں روسی حکام سے بات کی ہے اور ترکی کے آپریشن میں خلل نا ڈالنے کا کہا ہے۔

اس سے قبل ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے اپنے روسی ہم منصب سے اور ترک وزیر دفاع حلوصی آقار نے روسی وزیردفاع جبکہ ترک انٹیلی جنس کے سربراہ حقان فدان نے اپنے منصب سے اس معاملے پر بات کی۔

ترک صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "بالخصوص اگر ہمیں مطلوبہ نتائج نہ ملے تو میں براہ راست اپنے ہم منصب سے بات کروں گا اور اس معاملے کی نزاکت اس تک پہنچاؤں گا”۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ادلب میں شروع ہونے والا آپریشن گراؤنڈ پر موجود ترک اور روسی جرنیلوں کی مسلسل گفت و نشید کے بعد شروع کیا گیا ہے۔

ایردوان نے کہا کہ شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں جہاں جنگ بندی کی کوششیں متعدد بار ناکام ہو چکی ہیں، ترک فوجیوں کو نشانہ بنانے والی اسد حکومت کے حملے کے خلاف ترکی کی جوابی کاروائی میں 30 سے 35 اسدی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

بشار الاسد کے حملوں کو روکنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ جوابی کاروائی کے بعد بھی یہ آپریشن جاری رہے گا۔

ترک صدر ایردوان نے کہا کہ وہ جنہوں نے ادلب کے معاملے پر ترکی کے عزم کو ان خطرناک حملوں سے جانچنے کی کوشش کی ہے انہیں جلد اپنی غلطی کا احساس ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ ترکش ایف 16 جیٹ اور ہاؤزٹرز ادلب میں بشار الاسد رجیم پر حملے جاری رکھیں گے۔ ہم نے 40 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

تبصرے
Loading...