ترکی، موسمِ گرما کے لیے برطانوی سیاحوں میں مقبول ترین مقام

0 628

2019ء کے موسمِ گرما میں تعطیلات گزارنے کے لیے برطانوی باشندوں میں مقبول ترین مقامات میں ترکی بھی شامل ہے۔ ایک ہالیڈے بکنگ ایجنسی کے مطابق سیاح بریگزٹ معاملے پر پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کی وجہ سے یورپی یونین سے باہر کے مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔

تھامس کک کی رپورٹ کے مطابق برطانوی باشندوں کو فروخت کیے گئے ترکی کے ہالیڈے پیکیجز میں گزشتہ سال کی نسبت اِس بار 27 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ ہی ترکی نے یونان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے البتہ اسپین بدستور سرفہرست ہے۔

برطانوی 29 مارچ کو یورپی یونین چھوڑنے والا تھا لیکن پارلیمنٹ میں وزیر اعظم ٹریسا مے کی بریگزٹ ڈیل شرائط کے معاملے پر پیدا ہونے والی پیچیدگیوں نے اس میں تاخیر کردی ہے۔ اب 31 اکتوبر کی نئی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔ دنیا کی قدیم ترین ٹریول کمپنی تھامس کُک نے کہا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے معاملے پر غیر یقینی کیفیت میں اضافے کی وجہ سے عوام کی اکثریت نے موسمِ گرما کی تعطیلات کے مقام کے انتخاب اور اس کے لیے بکنگ کروانے میں تاخیر کی۔

لیکن کمپنی کی جانب سے جن 3422 برطانوی سیاحوں سے سروے کیا گیا، ان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ تعطیلات بیرونِ ملک منائیں گے جن میں سے ایک چوتھائی کا کہنا ہے کہ ان پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال بیرونِ ملک سیاحت ان کی ترجیحات میں زیادہ ہے، جبکہ صرف 8 فیصد نے کہا کہ یہ اس بار کم تھی۔

تھامس کک کے چیف آف ٹؤر آپریٹنگ وِل ویگٹ نے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ برطانیہ سیاسی لحاظ سے ایک عجیب دور سے گزر رہا ہو، لیکن بیرونِ ملک تعطیلات کے حوالے سے ہماری خواہشات و ترجیحات بالکل واضح ہیں۔ سیاسی ہنگامہ خیزی دیگر پہلوؤں سے بھی اثرات مرتب کر رہی ہے، جو یورپی یونین سے باہر واقع ممالک کی طرف واضح رحجان ظاہر کر رہی ہے۔”

تھامس کُک ہالیڈے رپورٹ کہتی ہے کہ بریگزٹ کی وجہ سے پاؤنڈ کی قدر کم ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے 2019ء کے موسمِ گرما کے لیے یورو زون سے باہر کے علاقوں کے لیے بکنگ میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترکی درجہ بندی میں اوپر آتے آتے برطانوی باشندوں میں دوسرا مقبول ترین مقام بن گیا ہے اور تھامس کک کی کل ایک چوتھائی ایئرلائن بکنگز یہاں کے لیے ہو رہی ہے۔”

رپورٹ مزید کہتی ہے کہ کہ "2019ء میں یہ مقام نئی بلندی تک پہنچا ہے کہ جس میں گزشتہ موسم گرما کے مقابلے میں اس بار ترکی کے لیے محض فلائٹ بکنگ میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ 2018ء میں ترکی اس وقت گرمیوں کے لیے مقبول ترین مقامات میں ٹاپ تین میں سے ایک تھا یعنی اس سال یونان کو ویسے ہی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ یورپی یونین سے باہر ہونے کی کشش اپنی جگہ لیکن 2019ء میں ترکی کے مقبول سیاحتی مقام بننے کی وجوہات میں وہاں کے فائیو اسٹار ریزورٹس میں اخراجات کا بہترین نعم البدل پیش کرنا بھی شامل ہے۔” رپورٹ کے مطابق برطانوی باشندے اب اٹلی اور فرانس جیسے روایتی مقامات سے دُور ہو رہے ہیں اور اس کے بجائے ترکی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

تھامس کک کے CEO پیٹر فینکاسر کا کہنا ہے کہ "بکنگ کروانے والے افراد میں یورپی یونین سے باہر کے ممالک جیسا کہ ترکی اور تونس مقبول ہو رہے ہیں۔ سیاح دیگر تمام ڈیلز کے علاوہ اپنے اطمینان کے لیے کھانے پینے پر آنے والے اخراجات کی بھی ابھی سے ادائیگی کر رہے ہیں۔”

ہالیڈے کمپنی TUI کا بھی کہنا ہے کہ تعطیلات کے لیے بڑھتی طلب نے اس سال ترکی کے لیے ہوائی جہازوں کی نشستوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ TUI ایئرویز نے کہا کہ وہ 2020ء کے موسم گرما کے لیے انطالیہ اور دلامن کے ہوائی اڈوں کے لیے گنجائش میں 45,000 نشستوں کا اضافہ کرے گی۔

ترکی کا ساحلی ریزورٹ شہر انطالیہ اپنے پرتعیش ہوٹلوں، گالف کورسز، شاپنگ سینٹرز، سینکڑوں تاریخی مقامات اور میلوں تک پھیلے ساحلوں کی بدولت ترکی میں سیاحت کے اہم ترین مقامات میں سے ایک بن چکا ہے۔

TUI کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جنوب مغربی مغلا صوبے کے شہر انطالیہ اور دلامن "اپنے مناظر اور خوبصورت ساحلوں سے سب کو حیران کرنے کو تیار ہیں۔”

"مکمل پیکیج” اختیار کرنے والوں میں اضافہ سیاحوں کی جانب سے پاؤنڈز کی قیمت میں آنے والے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے سیاحوں کے کھانے پینے کے اخراجات پہلے سے ادا کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، کمپنی نے کہا۔ اس مہینے کے اوائل میں ایزی جیٹ نے خبردار کیا تھا کہ بریگزٹ معاملے پر غیر یقینی کیفیت کی وجہ سے موسمِ گرما کی تعطیلات کے لیے سیاح اپنی بکنگ روک رہے ہیں، یوں ٹکٹوں کی طلب کے ساتھ ان کی قیمتیں گر رہی ہیں۔”

ترکی نے گزشتہ سال سیاحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھا اور پچھلے سال 39.5 ملین غیر ملکی سیاحوں کا خیرمقدم کیا، جو وزارت ثقافت و سیاحت کے مطابق سال بہ سال میں 21.84 فیصد اضافہ تھا۔

برطانیہ سیاحتی لحاظ سے ترکی کے لیے چوتھی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، کیونکہ 2018ء میں 2.25 ملین برطانوی سیاحوں نے ملک کا دورہ کیا تھا۔ روس گزشتہ سال 5.96 ملین سیاحوں کے ساتھ سرفہرست رہا جس کے بعد جرمنی 4.51 ملین سیاحوں اور بلغاریہ 2.38 ملین سیاحوں کے ساتھ تھے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ترکی نے رواں سال کے پہلے دو ماہ میں 3.2 ملین غیر ملکی سیاحوں کی میزبانی کی، جو سال بہ سال میں 7.4 فیصد اضافہ ہے۔ ملک میں آنے والے برطانوی سیاحوں کی تعداد میں مذکورہ عرصے میں 12.48 فیصد اضافہ ہوا کہ جن کی تعداد 80,610 تک جا پہنچی۔

تبصرے
Loading...