ترکی کا چین پر اویغور حراستی کیمپوں کو بند کرنے پر زور

0 165

ترک وزارت خارجہ نے ہفتہ کے روز چین پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اویغور ترکوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور حراستی کیمپوں کو بند کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "چین کی اویغور ترکوں کے ساتھ منظم انجذابی پالیسی، انسانیت کے لیے انتہائی شرمناک ہے”۔

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آکسوئے نے کہا، "یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ دس لاکھ سے زائد اویغور ترک جنہیں ستم گرانہ طریقے سے گرفتار کیا گیا، اب حراستی کیمپوں اور زندانوں میں تشدد اور سیاسی برین واشنگ بھگت رہے ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا، "جو اویغور ابھی تک گرفتار نہیں کئے گئے وہ بھی انتہائی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے اویغور نسل کے شہری جو غیر ملکوں میں رہ رہے ہیں وہ خطے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے بات نہیں کر سکتے”۔

آکسوئے نے چین پر زور دیا کہ وہ اویغور ترکوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور حراستی کیمپوں کو بند کرے۔

ترک ترجمان وزارت خارجہ نے کہا، "ہم عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو بھی کہتے ہیں کہ وہ شنکیانگ میں ہونے والے انسانی المیے کے خاتمے کے لیے موثر قدم اٹھائیں”۔

آکسوئے نے ہفتے کے روز کیمپ میں وفات پانے والے اویغور شاعر اور موسیقار عبد الرحیم حییت کو یاد کرتے ہوئے کہا، "ہم اس موقع پر عظیم شاعر عبد الرحیم حییت کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں جنہیں ان کی شاعری کی وجہ سے 8 سال کی سزائے قید دی گئی اور وہ دوسرے سال زندان میں ہی وفات پا گئے”۔

آکسوئے نے کہا، "اس غم ناک سانحے نے ترک عوام کے شنکیانگ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر ردعمل میں اضافہ کیا ہے”۔ ترک وزارت خارجہ نے چینی حکام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ترک عوام کے جذابات کی قدر کی جائے گی۔

چین میں اویغور اور مسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 10لاکھ کے قریب افراد کو ملک کے مغرب میں واقع خود مختار علاقے شنکیانگ میں سیاسی نظریے کی جبری تلقین کے کیمپوں میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔ چین نے گذشتہ دو سالوں سے اویغور ترکوں کے خلاف اپنی پالیسی میں شدت اختیار کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں مردوں کی داڑھی جبکہ عورتوں کو پردہ کرنے کی پابندی کا سامنا ہے۔

تبصرے
Loading...