ایردوان اور پوتن کی ٹیلی فون پر گھنٹہ بھر طویل گفتگو

0 1,316

صدر رجب طیب ایردوان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اتوار کے روز ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یوکرائن کے مسئلے کو پُرامن ذرائع سے حل کرنے کے لیے کسی بھی وقت ترکی ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ فوری عام جنگ بندی نہ صرف خطے میں انسانی المیے کو کم کرے گی بلکہ سیاسی حل کے مواقع بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "آؤ امن کے لیے مل کر راستہ تلاش کریں”۔

صدر ایردوان نے جنگ بندی کو یقینی بنانے، انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو کھولنے اور امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ بتاتے ہوئے کہ وہ یوکرائنی فریق اور دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ وہ جامع مذاکرات کو ممکن بنانے اور نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اپنی غیر جانبدار اور متوازن پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے، ترکی یوکرائن تنازعے کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتا ہے۔ جہاں ترکی نے روس کو الگ تھلگ کرنے کے لیے نافذ کی گئی بین الاقوامی پابندیوں کی مخالفت کی ہے، وہیں اس نے 1936ء کے ایک معاہدے کے تحت باسفورس اور چناق قلعے کی آبناؤں کو بھی بند کر دیا ہے تاکہ روسی بحری جہازوں کو ترک آبنائے عبور کرنے سے روکا جا سکے۔

ترکی ایک طرف نیٹو کا رکن ملک ہے تو دوسری طرف بحیرہ اسود میں یوکرائن اور روس کے ساتھ سمندری سرحدیں رکھتا ہے اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ  اچھے تعلقات موجود ہیں۔ ترکی نے ماسکو پر پابندیوں کی مخالفت کی ہے، تاہم اس نے یوکرائن پر اس کے حملے کو ناقابل قبول قرار دیا تھا، اس نے روس سے جلد از جلد جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

ترکی نے کہا ہے کہ وہ یوکرائن اور روس کے وزرائے خارجہ کو اگلے ہفتے جنوبی ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والے ڈپلومیسی فورم میں بات چیت کے لیے اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔ یوکرائن اور روس دونوں نے اس طرح کے مذاکرات کے لیے کھلے دل کا اظہار بھی کیا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: