روس شامی حکومت کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے، ترکی کا مطالبہ

0 276

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ روس کو بشار حکومت کے حملے روکنے کی ذمہ داری لینا ہوگی اور ترکی ایسی کسی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

دارالحکومت انقرہ میں Asia Anew اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولود چاؤش اوغلو نے کہا کہ "ہم آستانہ اور سوچی میں ہونے والے معاہدوں کی رُو سے روس کے ساتھ مل کر شام میں کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے فوجی دستوں پر ہونے والے حملے ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔ ہم ادلب میں اس کا موزوں جواب دے چکے ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔”

وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کو بتا دیا ہے کہ شامی حکومت کو شمال مغربی صوبے ادلب میں ترک فوج پر حملوں سے روکنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں سے آستانہ اور سوچی معاہدوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ ادلب میں فوج کی تعیناتی کا مقصد ترک مشاہداتی چوکیوں کو مضبوط کرنا اور خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے روس کے ان دعووں کو بھی مسترد کر دیا "ان کا شامی حکومت پر مکمل اختیار نہیں” اور کہا کہ اس بیان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ "حالیہ پیش رفت سے اندازہ ہوتا ہے کہ شامی حکومت بحران کے سیاسی حل کے بجائے عسکری حل کو حمایت کر رہی ہے۔”

چاؤش اوغلو نے سوموار کو ادلب میں شامی حملے کے بعد لاوروف سے رابطہ کیا تھا۔اس حملے میں سات ترک فوجی اور ایک سویلین کانٹریکٹر جان سے چلے گئے تھے۔

شمال مغربی شام میں واقع صوبہ ادلب 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز سے حزب اختلاف اور حکومت مخالف مسلح گروپوں کا گڑھ ہے۔ اس وقت یہاں 40 لاکھ مقیم ہیں، جن میں حکومت کے مظالم سے فرار ہونے والے دیگر علاقوں کے افراد بھی شامل ہیں۔

ترکی اور روس نے ستمبر 2018ء میں اتفاق کیا تھا کہ وہ ادلب کو ایک de-escalation zone میں بدل دیں گے کہ جہاں جارحیت ممنوع ہوگی۔

لیکن شامی حکومت اور اس کے اتحادی جنگ بندی کے اس معاہدے کو بارہا توڑتے رہے ہیں، جن میں زون میں بارہا حملے اور معاہدے کے بعد سے اب تک تقریباً 1300 شہریوں کا قتل شامل ہیں۔

ترکی نے 10 جنوری کو ادلب میں نئے سیز فائر کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز 12 جنوری کی شب ہوا۔ البتہ شامی حکومت اور ایران کی پشت پناہی رکھنے والے دہشت گرد گروپوں کے حملے بدستور جاری ہیں۔

تبصرے
Loading...