ترک و امریکی وزرائے دفاع کی برسلز میں ملاقات

0 490

امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع مارک ایسپر نے اپنے ترک ہم منصب خلوصی آقار کو خبردار کیا ہے کہ انقرہ کی جانب سے روسی ساختہ S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنا نہ صرف F-35 فائٹر جیٹ پروگرام میں ترکی کے کردار کا خاتمہ کرے گا بلکہ یہ اس کے بعد لگنے والی امریکا کی پابندیوں کی وجہ سے ترک معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔

برسلز میں نیٹو اجلاس کے بعد ہونے والی ترک-امریکی ملاقات پر ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "وزیر دفاع کا مؤقف ایک مرتبہ پھر بہت واضح تھا کہ ترکی بیک وقت S-400 اور F-35 نہیں رکھ سکتا۔ اور اگر اس نے S-400 کا انتخاب کیا تو انہیں نہ صرف F-35 پروگرام سے ہاتھ دھونا پڑیں گے بلکہ ان کی معاشی صورت حال بھی خراب ہوگی۔”

قومی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق آقار اور ایسپر نے شام اور F-35 فائٹر جیٹ پروجیکٹ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ وزارت نے بتایا کہ ملاقات کے دوران عہدیداروں نے باہمی سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے حوالے سے دیگر معاملات پر بھی بات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

ترکی کی جانب سے روسی زمین سے فضاء میں مار کرنے والے دفاعی میزائل نظام کی خریداری کے فیصلے نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کردیا ہے۔ البتہ ہر موقع پر ترکی نے یہی کہا ہے کہ وہ اس معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور S-400 خریدنے کا فیصلہ اس کا اختیار ہے۔

ترکی نے 2017ء میں S-400 سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا تھا جب امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کی طویل کوششیں ثمر آور نہیں ہوئی تھیں۔

امریکی عہدیداروں نے ترکی کو ماسکو سے S-400 لینے کے بجائے امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدنے کا مشورہ دیا، اور دلیل دی کہ روسی نظام نیٹو کے سسٹمز کے لیے ناسازگار ہے اور روس کے سامنے F-35 کی خامیاں کھول دے گا۔

تبصرے
Loading...