شام میں ترکی-امریکا مشترکہ گشت جلد شروع ہوجائے گا، صدارتی ترجمان

0 960

صدر رجب طیب ایردوان اور روسی صدر ولادیمر پوتن کے مابین آئندہ دنوں میں شام کی صورت حال پر مذاکرات کے امکان کے ساتھ ترکی کے لیے سخت ڈپلومیسی کا وقت آن پہنچا ہے، صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا۔

"16 ستمبر کو انقرہ میں روس اور ایران کے ساتھ سہ فریقی اجلاس ہوگا،” قالین نے کابینہ اجلاس کے بعد کہا۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکی جنگ زدہ ادلب کے حوالے سے کسی حل تک پہنچنے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، ساتھ ہی شام میں امریکا کے ساتھ مشترکہ گشت جلد شروع ہو جائے گا۔ "ہم پوتن کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی فون کالز کی تیاریاں کر رہے ہیں۔”

قالین نے شامی حکومت اور روس کی جانب سے گنجان آباد ادلب پر حملوں پر اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ جہاں انسانی المیہ جنم لینے کے قریب ہے۔

"ترکی نے اپنے خدشات سے روس کو آگاہ بھی کردیا ہے،” انہوں نے منگل کو شام کی سرکاری افواج کے طیاروں کی جانب سے ترک فوجی قافلے پر حملے کے بعد اپنے ردعمل میں کہا۔

شمال مغربی شام کے علاقے ادلب میں کمزور فائر بندی بشار اسد کی حکومت اور روس کی جانب سے رہائشی علاقوں پر مسلسل حملوں کی وجہ سے خاتمے کے قریب ہے کہ جن میں سینکڑوں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور تقریباً 4 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

ایک سیاسی حل کو موقع دینے کے لیے ابتداء ہی سے بھرپور سفارتی کوشش کرنے اور یوں نئے انسانی المیے کو روکنے کے لیے انقرہ نے ایک مرتبہ پھر خطے میں استحکام کا مطالبہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ شامی حکومت ترک فوج کے خلاف کسی بھی جارحیت سے باز رہے۔

سیف زون کو بنانے اور سنبھالنے کے لیے مشترکہ ترک-امریکی آپریشن سینٹر اگلے ہفتے کام شروع کردے گا، دفاعی وزیر خلوصی آقار نے گزشتہ ہفتے کہا۔ ساتھ ہی انہوں نے اضافہ کیا کہ انقرہ اور واشنگٹن خطے میں فضائی حدود کے کنٹرول اور ہم آہنگی کے لیے عام شرائط پر بھی راضی ہو چکے ہیں۔

حال ہی میں ایک چھ رکنی امریکی ٹیم 12 اگست کو جنوب مشرقی صوبہ شانلی اورفا پہنچ چکی ہے۔

7 اگست کو ترک اور امریکی فوجی حکام نے ایک سیف زون کے قیام اور دریائے فرات کے ساتھ ساتھ عراقی سرحد تک ایک امن راستہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ اس وقت ترکی میں رہنے والے بے گھر شامی باشندوں کو اپنے ملک واپس جانے کا موقع ملے اور ترک سرحدی مقامات اور فوجی چوکیوں کو سکیورٹی مل سکے۔ انہوں نے ایک جوائنٹ آپریشنز سینٹر کے قیام پر بھی اتفاق کیا۔ معاہدہ ترکی کے سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کا احاطہ کرتا ہے۔

تبصرے
Loading...