اگر اِدلب بحران شدت اختیار کر گیا تو ترکی سب سے زیادہ متاثر ہوگا، ترک وزیر خارجہ

0 448

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے اِدلب، شام سے مہاجرین کی نئی ممکنہ لہر پیدا ہونے کے حوالے سے انقرہ کے خدشات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

مولود نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں شامی بحران کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

"اِدلب کو دیکھیں۔ ایک مصیبت ہماری آنکھوں کے سامنے جنم لے رہی ہے،” چاؤش اوغلو نے کہا۔ "اگر یہ انسانی بحران شدت اختیار کرتا ہے تو ترکی سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔”

البتہ شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے سیزفائر کی شرائط کی مستقل خلاف ورزی کی ہے اور بارہا خصوصی زون کے اندر حملے کیے ہیں۔

یہ علاقہ تقریباً 40 لاکھ شہریوں سے آباد ہے، جن میں لاکھوں افراد جنگ زدہ ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں سے فوج کے ہاتھوں در بدر ہوئے۔ ترکی نے خبردار کیا کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی مزید جارحیت ترکی کی جانب لاکھوں نئے مہاجرین کی آمد کا سبب بن سکتی ہے، جو پہلے سے ہی 36 لاکھ شامی مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور دنیا میں مہاجرین کا سب سے بڑا میزبان ملک ہے۔

"ادلب کی آبادی تقریباً اتنی ہی ہے جتنی کہ اس وقت ترکی میں شامی مہاجرین کی تعداد ہے۔ ہم مہاجرین کی نئی لہر کو نہیں سنبھال سکتے،” چاؤش اوغلو نے مزید کہا کہ شامی باشندوں کی وطن واپسی پر بات کرنے کے لیے لبنان، اردن اور عراق کے ساتھ ایک بین الاقوامی کانفرنس ترکی میں منعقد ہوگی۔

"ہمیں امید ہے کہ یورپی یونین اس کا حصہ ہوگا۔ ہم نے UNHCR اور دیگر متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو بھی مدعو کیا ہے،” انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ۔

تبصرے
Loading...