ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے حقوق کے لیے ثابت قدم رہے گا، صدر ایردوان

0 170

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے حقوق کے حوالے سے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "اپنے شہریوں کی سلامتی اور بہبود کو داؤ پر لگا کر ترکی کی مخالفت کرنے والے ملکوں کو صاف کہہ دوں کہ امید ہے کہ وقت آنے پر انہیں بھاری قیمت نہیں چکانا پڑے گی۔ ہم نے ہر موقع پر کہا ہے کہ ہم تنازعات کو مذاکرات، بات چیت، گفتگو اور باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس منعقد کی۔

"ترکی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے”

صدر نے وباء کے معاشی و سماجی اثرات کے فوری خاتمے کے لیے اور ساتھ ساتھ اقدامات کی وجہ سے پہنچنے والے نقصانات سے نمٹنے کی کوششوں کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ "ہم یقینی بنائیں گے کہ ملک وباء کے بعد سیاسی و معاشی لحاظ سے ایک بہتر مقام پر پہنچے۔ ہمارا یقین ہے کہ ترکی اپنے مضبوط انفرا اسٹرکچر کے ساتھ نئے دور کا آغاز کر چکا ہے، خاص طور پر پیداوار، انتہائی تعلیم یافتہ عوام، بہتر ہوتی ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس کے معاملے میں برتری کے لحاظ سے۔ درحقیقت اس کے اشارے بالکل واضح ہیں۔ میں اپنی کاروباری برادری کو مدعو کرتا ہوں کہ وہ اس نئے دور میں موجود مواقع کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔”

"ہم نئی اصلاحات متعارف کروانے کی تیاریاں کر رہے ہیں”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے مختلف ہائی ٹیکنالوجی شعبوں کی وسیع رینج میں منصوبے شروع کیے کہ جس میں آٹوموٹو اور ڈیفنس انڈسٹریز شامل ہیں جو ترکی کو دنیا کے چند سرفہرست ملکوں میں سے ایک بنا سکتی ہیں۔ ہم انسانی حقوق، عدلیہ اور کمرشل ریگولیشنز کے حوالے سے بھی نئی اصلاحات متعارف کروانے کی تیاری کر رہے ہیں جس سے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہمارے شہریوں کی زندگیاں بہتر ہوں گی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ملنے والی خود اعتمادی کی وجہ سے ترکی ایسا ملک بن چکا ہے جو خطے میں اور دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے۔ ہم یہ سب اس لیے کیونکہ ہم بنیادی ڈھانچہ بھی رکھتے ہیں اور عزم بھی کہ جب بھی ضرورت پڑی اپنی آزادی اور مستقبل کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سے لے کر فوجی طاقت تک ہر طریقہ استعمال کریں گے۔ ”

"ہم تنازعات کو مذاکرات، گفتگو اور بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں”

مشرقی بحیرۂ روم اور ایجیئن میں حالیہ پیشرفت پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جو مشرقی بحیرۂ روم اور ایجیئن میں ترکی کو حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں، اور تاریخ سے کوئی سبق سیکھے بغیر کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان ملکوں پر واضح کردوں، جو اپنے شہریوں کی سلامتی اور بہبود کو داؤ پر لگا کر ترکی کی مخالفت کر رہے ہیں، کہ امید ہے کہ وقت آنے پر انہیں بھاری قیمت نہیں چکانا پڑے گی۔ ہم نے ہر موقع پر کہا ہے کہ ہم تنازعات کو مذاکرات، بات چیت، گفتگو اور باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ میں انہوں مشورہ دوں گا جو اپنی مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بجائے اپنی خستہ حال افواج کے ساتھ ہمیں للکار رہے ہیں، کہ وہ تاریخ کو تو ایک طرف ہی رکھ دیں صرف پچھلے چار سال میں ہماری سفارتی سرگرمیوں اور فوجی آپریشنز کو دیکھ کر موجودہ حالات کا ہی قریب سے جائزہ لیں۔ میں اس معاملے پر صحیح اور غلط، راست اور نامناسب، اخلاقی و غیر اخلاقی کے درمیان فرق قائم کیے بغیر ہمارے خلاف اندھا تعصب اختیار کرنے والوں، خاص طور پر یورپی یونین، کو کہوں گا کہ وہ دیانت داری اور عقلِ سلیم کا استعمال کرے۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ "یورپی ممالک، جو قبرص، شام اور لیبیا میں ناکام ہوئے ہیں، مشرقی بحیرۂ روم میں بھی اسی انجام کا شکار ہوں گے۔ ترکی اپنی سرحدوں کی حفاظت کی طرح مشرقی بحیرۂ روم میں بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک پرعزم اور متحرک پالیسی کی پیروی کرے گا۔”

تبصرے
Loading...