ترکی اپنے خطرات کا تعین خود کرے گا، ترک صدارتی ترجمان

0 228

ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ اس بات کا تعین ترکی خود کرے گا کہ اس کی قومی سلامتی کے لیے کیا خطرہ ہے اور کیا نہیں ہے۔

انہوں نے ریمارکس پینٹا گون کی اس پریس ریلیز کے جواب میں دئیے جس میں کرد دہشتگردوں سے اس اسلحہ کو واپس لینے کی بات کی گئی تھی جو ترکی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ابراہیم قالن نے کہا: "دوسرے نہیں، ترکی اپنے خطرات کا خود تعین کرے گا۔ یہ بیان جو پی وائے جی سے اسلحہ کی وصولی پر دیا گیا اسے ضرور عملدرآمد ہونا چاہیے”۔

وائی پی جی کرد جمہوری اتحاد پارٹی (پی وائے ڈی) کا عسکری ونگ ہے۔ جو ترک کرد پی کے کے کی شامی شاخ ہے۔ جو ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی طرف سے پہلے ہی دہشتگرد قرار دئیے جا چکے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں 40 ہزار سے زائد لوگ پی کے کے کی ترک ریاست کے خلاف دہشتگرد کاروائیوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں

قالن نے مزید کہا: "اسلحہ واپس نہ لینے سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور مستقل ہو جائے گا”۔

انقرہ امریکا کی طرف سے پی وائے جی کو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے اسلحہ دئیے جانے پر سخت تشویش رکھتا ہے اور ترکی کے ناٹو سے تعلقات کو بھی خراب کر رہا ہے۔

اس کے برعکس امریکا داعش کے خلاف پی وائے جی کو بھاری اسلحہ دیتا آیا ہے۔ انقرہ نے امریکا کو یہ بھی تجویر دی تھی کہ اس کے برعکس مقامی عرب قبائل کو مضبوط کیا جائے تو وہ داعش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اس سے زیادہ بہتر عمل ہو گا کہ ایک دہشت گرد کے خلاف دوسرے دہشتگرد گروپ کو مضبوط کیا جائے۔

امریکا انقرہ کی یہ آفر بھی رد کر چکا ہے جس میں اس نے امریکا سے کہا تھا کہ دونوں ملک رقعہ میں مل کر داعش کے خلاف آپریشن کریں۔ امریکا نے اس کے بجائے کرد پی وائے جی کے ساتھ مل کر یہ آپریش کیا۔

تبصرے
Loading...