حفتر نے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو ترکی جو ضروری سمجھے گا کرے گا، ایردوان

0 379

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ اگر جنرل خلیفہ حفتر کے دستوں نے اپنا عہد پورا نہ کیا تو ترکی تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ ترکی لیبیائی بحران کے سفارتی حل کے لیے اب تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتا آیا ہے۔

صدارتی ہوائی جہاز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے لیبیا میں ترک فوجیوں کی موجودگی اور لیبیا کی قانونی و جائز حکومت کو فوجی مدد دینے کے فیصلے پر چند فریقین کے اعتراضات کا بھی جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے لیبیا کی فوجی تربیت کے لیے صرف ٹرینرز بھیجے ہیں۔ صدر ایردوان نے کہا کہ "دوسری جانب ویگنر لیبیا میں 2,500 اہلکار رکھتا ہے۔ اس بات کو مذاکرات کی میز پر کیوں نہیں لائے؟ جب ہم ایسا کہتے ہیں تو کوئی جواب نہیں ملتا۔ صرف ویگنر ہی نہیں؛ سوڈان کے 5,000 فوجی بھی وہاں ہیں۔ اس کے علاوہ چاڈ اور نائیجر کے فوجی بھی۔ ابوظہبی انتظامیہ کو جس ذریعے سے جو ملا، وہ اس نے حاصل کیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ سوڈان سے آنے والے کرائے کے سپاہی ہیں اور ان کی فنڈنگ متحدہ عرب امارات کر رہا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ روس اور متحدہ عرب امارات کی فوجی مدد حفتر کی افواج کے لیے ہے اور ترکی نے برلن مذاکرات کے دوران معاملے کی حساسیت کے بارے میں بتایا۔

جہاں تک ادلب کا معاملہ ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ یہ ایک اور اہم موضوع ہے کہ جو برلن اجلاس کے دوران ایجنڈے پر تھا۔ صدر نے کہا کہ اجلاس کے دوران اور دو طرفہ ملاقاتوں میں انہوں نے اس معاملے پر خاص طور پر روسی صدر ولادیمر پوتن سے بات کی۔ صدر ایردوان کے مطابق جب انہوں نے پوتن کو ادلب کی صورت حال سے آگاہ کیا، تو روسی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین خاص طور پر خارجہ، دفاع اور انٹیلی جنس معاملات پر تعاون جاری رہے گا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "اب وہ ان گروپوں کو ‘دہشت گرد’ کی حیثیت دیکھ رہے ہیں کہ جنہیں ہم ‘اعتدال پسند حزب اختلاف’ قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے روس کو نقصان پہنچایا ہے۔ البتہ میں نے انہیں (پوتن کو) بتایا کہ جب وہ ان گروپوں کو دہشت گرد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو اسد حکومت پورے ملک کو دہشت زدہ کر دیتی ہے۔” انہوں نے یاد دلایا کہ شامی حکومت نے لاکھوں افراد کو مارا اور اب بھی ادلب پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ "پھر بھی وہ (پوتن) اس سچ کو تسلیم نہیں کر پائے۔”

ترکی ایک نئی مہم کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے، یہ بتاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ مہاجرین کے لیے اینٹوں کی نئی پناہ گاہیں تعمیر کی جائیں گی، جن سے ان کے حالاتِ زندگی آسان ہو جائیں گے۔ "اب ہم ترک ہلالِ احمر، ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ پریزیڈنسی (AFAD) کو اس معاملے پر متحرک کر رہے ہیں اور ہم ان کی تعمیر شروع کریں گے۔” انہوں نے زور دیا کہ ترکی خطے میں امن کے لیے اہم ہے۔

صدر نے زور دیا کہ "اس وقت، اگر ہم ایک مضبوط ریاست ہیں تو ہم سے بہت زیادہ توقعات بھی وابستہ ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ان توقعات کے برعکس خاموش بیٹھے رہیں۔ ہمیں بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات اٹھانے ہوں گے۔”

تبصرے
Loading...