ترکی کا ضراب کیس پر امریکا کے خلاف اقوام متحدہ جانے کا فیصلہ

0 209

ڈیلی صباح کے مطابق ترکی نے ایرانی نژاد ترک باشندے رضا ضراب کے خلاف امریکا میں چلنے والے مقدمے کے خلاف اقوام متحدہ میں درخواست دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سونے کے تاجر رضاضراب کو 2016ء مارچ میں امریکا پہنچنے پر میامی سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران پر لگائی گئی امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ حد سے زیادہ رقم منتقل کی جبکہ یہ پابندی انکی گرفتاری سے 3 ماہ پہلے اٹھا لی گئی تھی ۔

ترک حکام کے مطابق اس مقدمہ کو انقرہ کے خلاف ایک سیاسی چال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ترکی کے دعوے اس وقت سچ ثابت ہوئے جب مقدمہ سننے والے جج کا تعلق بدنام زمانہ گولن دہشتگرد نیٹ ورک سے ثابت ہوا جسکا سرغنہ مفرور مبلغ فتح اللہ گولن ہے جو 1999سے پنسلوانیا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔

ترک حکومت نے اس گروپ پر غیر قانونی طور پر باتیں ریکارڈ کرنے ، غیر قانونی طور پر شواہد اکٹھے کرنے ، حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور کیس کو ناجائز طور پر ترک حکومت کے خلاف استعمال کرنے جیسے الزامات لگائے ہیں۔

انقرہ کا کہنا ہے کہ اکٹھے کئے گئے نام نہاد ثبوت غیر قانونی ہیں جبکہ امریکی قانون عدالت کو صرف قانونی طور پر اکٹھے کئے گئے شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ سنانے کا اختیار دیتا ہے ۔

ضراب نے عدالت میں پیش ہو کر اعتراف جرم کیا جہاں وہ استغاثہ کے نمایاں گواہ کے طور پر پیش ہوئے اور تسلیم کیا کہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی گئی اس سے ہفتوں سے جاری افواہیں دم توڑ گئیں جنکی وجہ سے ترک امریکا تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

رپورٹ: سعد سلطان ایٹ کو

تبصرے
Loading...