منبج کے علاوہ دریائے فرات کا مشرقی علاقہ آزاد کرکے اس کے اصل مالکان کے حوالے کریں گے، ایردوان

0 1,682

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ جب عفرین میں آپریشن مکمل ہو جائے گا، انقرہ مشرقی دریائے فرات اور منبج کے علاقے دہشتگردوں سے صاف کرے گا اور ان زمینوں کے اصل مالکان کے حوالے کرے گا۔

انہوں نے کہا، "منبج کے اصل مالکان کون ہیں؟ عرب، جو وہاں کی مقامی آبادی کا 90-95 فیصد ہیں۔ تاہم وہ وہاں سے جبر کے ذریعے نکال دئیے گئے۔ اب منبج کے اصل مالکان پر عزم ہیں کہ اپنے قصبوں کا تحفظ کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ منبج اپنے اصل مالکان کے ہاتھ میں جائے گا”۔

انہوں نے امریکی اسیٹیٹ سیکرٹری سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم یہ بات ریکس ٹلرسن کو بھی بتا چکے ہیں”۔ امریکہ نے داعش کو علاقے سے نکالنے کے بعد پی وائے جی کی مدد سے منبج میں اپنا فوجی اڈا بنا رکھا ہے۔

عفرین آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک وائے پی جی کا صفایا نہیں ہو جاتا

ترک صدر نے کہا کہ پی کے کے کی شامی شاخ پی وائے ڈی کے خلاف آپریشن اس وقت جاری رہے گا جب تک مشن حاصل نہیں کر لیا جاتا۔ اور ترکی کو کوئی عنصر اپنی قومی سلامتی کے خطرات کو ختم کرنے سے نہیں روک سکتا۔

ایردوان نے کہا، "وہاں (عفرین) میں جو کوئی بھی ہمارے سامنے کھڑا ہوگا، ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ ہمیں تحقیقات اور ریسرچ کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے خلاف کون ہے۔ یہ ایسے نہیں کہ ہم اس معاملے میں ‘کون کیا’ کا انسائیکلوپیڈیا کنگالیں گے”۔

پی وائے جی کے سابق رہنما کو رہا کرنے کا مطلب دہشتگردی میں مدد دینا ہے

چیک ریپلک کی جانب سے وائے پی جی کے سابق رہنما صالح موسلم کی گرفتاری اور رہائی پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا، ” بد قسمتی سے، وہ جیسے ہیں وہ اسی دن ویسے نہیں ہوئے۔ اور اب وہ دو جذباتی رویہ رکھتے ہیں۔ چیک ریپلک وہ ملک ہے جو یورپی یونین کا رکن ہے۔ ٹھیک۔ کیا یورپی یونین پی کے کے کو دہشتگرد تنظیم تسلیم کرتی ہے؟ جی ہاں کرتی ہے۔ کیا ہم نے پی کے کے اور پی وائے ڈی کے تعلقات کے ثبوت اور دستاویز انہیں فراہم کیں؟ جی ہاں کیں۔ اس کے باوجود انہوں نے دہشتگرد رہنما کو رہا کر دیا”۔

تبصرے
Loading...