ترکی آذربائیجان کے حقوق پر کسی بھی حملے کے خلاف کھڑا ہونے سے دریغ نہیں کرے گا، صدر ایردوان

0 2,253

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی آذربائیجان کے حقوق غصب کرنے کی کوشش اور اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کے خلاف کھڑا ہونے سے دریغ نہیں کرے گا، کیونکہ اس کے آذربائیجان کے ساتھ گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خطے اور دنیا میں اپنے تمام سیاسی، سفارتی و سماجی تعلقات کو متحرک کریں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں ہونے والے صدارتی اجلاس کے بعد خطاب کیا۔

کرونا وائرس اور اس کے اثرات صدارتی کابینہ کے اجلاس میں ایجنڈے پر سرفہرست تھے، جس حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی نے ‏COVID-19 کے خلاف مثالی اور کامیاب جنگ لڑی ہے اور ہر شعبے خاص طور پر صحت عامہ کے شعبے کے حوالے سے شہریوں کی تمام ضروریات پوری کی ہیں۔

"ترکی کے بغیر خطے میں کوئی منصوبہ کامیاب ہونے کا امکان نہیں”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے وباء کے دوران بھی شام، شمالی عراق اور لیبیا میں اپنی اور اپنے دوستوں کی سلامتی کے لیے اپنی خواہش کے مطابق حالات کو برقرار رکھا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ خطے میں کوئی بھی منصوبہ ترکی، اس کی منظوری یا حمایت کے بغیر کامیاب ہونے کا امکان نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ یہ دنیا کسی ایک گروہ کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے زیادہ پرامن، زیادہ محفوظ اور زیادہ ترقی یافتہ مقام نہ بن جائے۔ ہم اپنا اعتراض ہر پلیٹ فارم پر پیش کریں گے۔ دنیا پانچ سے کہیں بڑی ہے، اور ہمارا مطالبہ ایک نئے ورلڈ آرڈر کا ہے۔”

آیا صوفیا مسجد کا عبادت کے لیے دوبارہ کھلنا

جہاں تک عبادت کے لیے آیا صوفیا مسجد کو دوبارہ کھولنے کا تعلق ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "آیا صوفیا کو ایک مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا تھا، اور اس کی تعمیر جو مقصد تھا اس پر عملدرآمد ہوگا جس پر ہم سب خوش ہیں۔ میں یہاں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ آیا صوفیا کو ایک گرجے سے نہیں بلکہ ایک عجائب گھر سے مسجد میں تبدیل کیا جاا رہا ہے۔ یہ سلطان محمد فاتح اور ان کے بعد آنے والے سلاطین تھے جنہوں نے اس عبادت گاہ کو بُرے حال میں پایا اور اسے مسجد میں تبدیل کیا۔ آیا صوفیا کھنڈر کی صورت میں تھی جسے پھر ایک فن پارے میں تبدیل کیا گیا، جو اپنی سماجی تنصیبات، میناروں، کتب خانے، فوارے، عمارت، حمام، ابتدائی مدرسے، پینے کے پانی کے فوارے، دار الموقت، شاہی چبوترے، سلطان کے حجرے اور کئی دیگر تعمیرات کے ساتھ مکمل طور پر ہماری ہے۔”

"ہم ایک ثقافتی ورثے کی حیثیت سے آیا صوفیا کی حیثیت کو محفوظ رکھیں گے”

پانچ صدیوں سے جاری حفاظت کے اس عمل سے صرفِ نظر کرنا اور فتح قسطنطنیہ سے پہلے کی حیثیت پر زور دینا جہالت نہیں تو کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "خود کو ترک اور مسلمان کہلانے والے تو درکنار اس سرزمین پر رہنے والے کسی شخص کو بھی فتح قسطنطنیہ پر شرمندگی کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔ اس فتح کے بعد تو اگلا سوال فتح سغوت پر اٹھے گا، اس کے بعدملازکرد اور ازنیق اور پھر غزوہ بدر پر بھی۔ بغیر کسی "لیکن” اور "اگر، مگر” کے یہ خوشی کا وقت ہے کہ یہ عظیم عبادت گاہ اپنے حقیقی روپ میں جلوہ گر ہو رہی ہے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ آیا صوفیا کو اس کی بنیادی حیثیت پر واپس لائيں گے، اور اپنے آبا و اجداد کی طرح ثقافتی ورثے کی حیثیت سے اس کا تحفظ کریں گے۔”

"ہم اپنی قوم کے وجود اور اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات پر خود فیصلے کرتے ہیں”

ترکی بلاتفریق اپنے شہریوں کی عبادت گاہوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں دنیا کے دوسرے ملکوں سے آگے ہے، اس پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اگر ہم اس معاملے کو تاریخی نقطہ نظر سے دیکھیں کہ جب سلطان محمد فاتح نے استنبول فتح کیا تو انہوں نے فوری طور پر آیا صوفیا کو بحال کرنے کا حکم دیا۔ لیکن صلیبی جنہوں نے اُن سے 250 سال پہلے حملے کیے تھے، آیا صوفیا کو بری طرح لوٹا تھا۔ انہوں نے اس عرصے میں جو کچھ لوٹا، وہ آج بھی فخریہ انداز میں یورپ کے کئی شہریوں میں عجائب گھروں کا حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، خاص طور پر ویٹی کن میں۔ تو مسئلہ آیا صوفیا کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ عبادت گاہ اور جس شہر میں وہ واقع ہے اس پر اختیار کس کا ہے۔ ہمیں خطے میں اپنی ایک ہزار سال سے موجودگی اور استنبول پر تقریباً 600 سال سے جاری اقتدار سے لاتعلق ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اپنی قوم کے وجود، اتحاد، آزادی و حقوق، خاص طور پر آیا صوفیا کے حوالے سے، اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ یہ بھی ہم ہی تھے کہ جنہوں نے ایک غلط فیصلہ بھی کرتے ہوئے آیا صوفیا کو عجائب گھر میں تبدیل کیا اور ایک مرتبہ پھر یہ بھی ہم ہی ہیں جو اسے دوبارہ مسجد بنا رہے ہیں۔ ہم اپنے لاکھوں آبا و اجداد اور اس وقت ملک میں رہنے والے 83 ملین باشندوں کی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔”

"ہم دوست اور برادر آذربائیجان کے خلاف آرمینیا کے حملوں کی سختی سے مذمت کرتے ہیں”

آرمینیا کی جانب سے آذربائیجان پر حالیہ حملے کے موضوع پر صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم آرمینیا کی جانب سے اپنے دوست اور برادر آذربائیجان کے خلاف حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ میں وطن عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کی موت سے ہمکنار ہونے والے آذربائیجانی بھائیوں کے لیے دعائے مغفرت اور زخمی ہونے والوں کے لیے اللہ سے دعائے صحت کرتا ہوں۔ ہمیں اس کشیدگی پر تشویش ہے کہ جو نگورنوکاراباخ پر حملے کے بعد سے خطے میں موجود ہے اور آرمینیا کے غیر ذمہ دارانہ اور طے شدہ حملوں کی وجہ سے تنازع میں تبدیل ہو جائے گی۔ بلکہ تازہ حملہ نگورنو کاراباخ کی سرحد پر نہیں بلکہ دونوں ملکوں کی سرحدوں پر ہوا ہے اور اس میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔”

صدر نے کہا کہ "ترکی آذربائیجان کے حقوق غصب کرنے کی کوشش اور اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کے خلاف کھڑا ہونے سے دریغ نہیں کرے گا، کیونکہ اس کے آذربائیجان کے ساتھ گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خطے اور دنیا میں اپنے تمام سیاسی، سفارتی و سماجی تعلقات کو متحرک کریں۔”

تبصرے
Loading...