ترکی کا روس کے کہنے پر عفرین، بشار الاسد کے حوالے کرنے سے انکار

0 3,080

سوموار کے روز روسی وزیر خارجہ نے ترکی سے مطالبہ کیا کہ روس نے عفرین میں ترکی کے آپریشن کی مخالفت نہیں کی لیکن اب انقرہ کو یہ خطہ دمشق میں قائم شامی رجیم کے حوالے کر دینا چاہیے۔ ترکی نے اس مطالبے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے گذشتہ روز آق پارٹی کے اراکین پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ اس کا فیصلہ ترکی کرے گا، کوئی اور نہیں کر سکتا۔ اور جب مناسب وقت آیا تو ترکی اس خطے کو اس کے اصل مالکان کے حوالے کرے گا۔

کیا ایسا ممکن ہے جیسا کہ ایران اور روس سوچتے ہیں؟ یہ انتہائی سادگی کا اظہار ہے کہ ترکی کے ایک سنجیدہ آپریشن کا حاصل یہ نکالا کر جائے کہ وہ اس علاقے کو بشار الاسد کے حوالے کر دے۔ ترکی نے اس خطے پر اپنے شامی اتحادیوں آزاد شامی فوج کے ہمراہ اپنا خون گرایا ہے اور اس کے بعد یہ ایک قاتل رجیم کے حوالے کر دے؟

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شام میں خانہ جنگی سے قبل شمالی شام میں خونی بشار الاسد کی ہی حکومت تھی۔ لیکن محاذ آرائی شروع ہونے سے قبل ہی بشار الاسد رجیم نے اس خطہ کو خود چھوڑ کر پی کے کے کے حوالے کر دیا۔ یہ ایک طرح سے ترکی اور اس کے صدر رجب طیب ایردوان سے دشمنی کی چال تھی تاکہ وہ ان دہشتگرد گروپوں کے ساتھ الجھا رہے۔ دہائیاں قبل، یہ بشار کے والد، حافظ الاسد ہی تھے جس نے پی کے کے کو شام میں اڈے فراہم کئے تھے تاکہ وہ ترکی سے لڑ سکیں۔ بشار الاسد نے بھی وہی کیا اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ترکی کے سرحد کے ساتھ سارا علاقہ پی کے کے کے حوالے کر دیا۔

بعد میں ان میں کئی علاقوں پر داعش نے قبضہ کر لیا۔ جسے اگست 2016ء میں ترکی نے آپریشن فرات ڈھال کے ذریعے آزاد کروایا اور شامی اپوزیشن انتظامیہ کے حوالے کیا۔ اگرچہ وہاں کی مرکزی سیکیورٹی کو اب بھی ترکی ہی مانیٹر کرتا ہے۔

ترکی بشار الاسد کو غیر قانونی آمر مانتا ہے جو اس ملک پر اپنے اقتدار کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جب شام میں باقاعدہ کوئی سیاسی عمل ہو گا اور دمشق میں عوامی رائے سے ایک عوامی حکومت قائم ہو گی تو ترکی کے لیے یہ معقول وجہ ہو گی کہ وہ عفرین اور شمالی شام کے باقی علاقوں کو اس عوامی اور آئینی حکومت کے حوالے کر دے۔ کیا شامی بحران میں دخ انداز باقی ممالک بھی ایسا کہہ سکتے ہیں؟ کیا روس شام کو چھوڑنے کا اعلان کرے گا؟ کیا ایرانی حمایت یافتہ گروپ جو شام کے چپے چپے پر موجود ہے وہ واپس اپنے ملکوں میں جائیں گے؟ کیا اسرائیل گولان کی چوٹیوں سے پیچھے ہٹے گا؟ کیا اقوام متحدہ شام کو چھوڑے گا؟

ترکی روز اول سے کہہ رہا ہے کہ وہ شام میں کسی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے داخل نہیں ہوا ہے۔ وہ عالمی قوانین کے تحت سنجیدہ دفاعی خدشات رکھتا تھا جنہیں کوئی سن نہیں رہا تھا۔ پھر انقرہ نے خود ان خطرات سے نبٹنے کا فیصلہ کیا اور انہیں مٹا دیا۔ اب ترکی پھر ایسا نہیں چاہے گا کہ وہ ان علاقوں کو ایسے ہاتھوں کے حوالے کر دے جو انہیں واپس پی کے کے کو عنایت کر دے اور دفاعی خطرات پیدا کرے۔ یہ خطہ اس کے رہائشیوں کی ملکیت ہے اور ترکی ایک نظام کے تحت اسے اس کے اصل مالکان کے حوالے ہی کرے گا۔

ایران اور روس کو مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی ٹھونگ سیاسی عمل رچانے سے قبل ہی ان تمام خطوں کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے ہیں۔ جبکہ ترکی نہ صرف شمالی شام کے ان علاقوں بلکہ ترکی میں موجود لاکھوں شامی ووٹرز کے ذریعے ایک سیاسی عمل کے ذریعے بشار الاسد کو نہ صرف اقتدار سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے بلکہ اسے شام میں ہی عدالتی عمل سے بھی گزارنے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بشار الاسد نے اپنی ہی عوام کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹا اور برباد کیا ہے۔ اس کے ہاں انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے، آخر وہ ان پر اقتدار کا دعویٰ کر ہی کیسے سکتا ہے۔ یہ بات ایران اور روس کو سمجھنا ہو گی ورنہ امن بحالی کا آغاز، خطے کو مزید تباہ کر دے گا۔

تبصرے
Loading...