ترکی شام میں اٹھائے گئے اقدامات اور لیبیا کے ساتھ معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، صدر ایردوان

0 287

کوجائیلی میں گول جوک نیول شپ یارڈ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی کسی صورت شام میں اٹھائے گئے اقدامات اور لیبیا کے ساتھ معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ہم لیبیا کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کی کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے پسِ پردہ عوامل سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے کوجائیلی میں گول جوک نیول شپ یارڈ پر پہلی رئیس کلاس آبدوز "پیری رئیس” کو بندرگاہ میں اتارنے اور پانچویں آبدوز "سیدی علی رئیس” کی ویلڈنگ کے آغاز کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔

"پیری رئیس” 2022ء میں سروس کا آغاز کرے گی، یہ بتاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ تمام آبدوزیں 2027ء تک مکمل ہو جائیں گی۔

"ہم اپنے ملک کے خلاف کسی سازش کی اجازت نہیں دیں گے”

بحیرۂ روم میں ترکی کو محدود اور بے دست و پا کرنے کی بیرونی کوششوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی کے پاس طاقت، ارادہ اور وسائل موجود ہیں کہ وہ ایسے مکارانہ اور علانیہ حملوں کے خلاف اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کر سکے۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور لیبیا کے ساتھ ہمارے ملک کے معاہدے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے کنونشنز کے مطابق ہیں اور ایسی مثالیں دیگر مقامات پر بھی ملتی ہیں۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین سرحد رکھنے والا ترکی سمندر میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور ان پر کام کرنے کے عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم کسی کی میز پر یا سائنسی سرگرمیوں اور ماحولیاتی خدشات کے بہانے بنائے جانے والے نقشوں کے ذریعے اپنے ملک کے خلاف کسی سازش کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم بر اعظمی کنارے، خصوصی اقتصادی زون یا بحری حدود کے حوالے سے رائج قواعد کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی اور لیبیا کے مابین بحیرۂ روم میں بحری حدود کی حد بندی پر مفاہمت کی یادداشت کا کوئی پہلو بین الاقوامی قانون سے متصادم نہیں۔” صدر کے مطابق یہ کوئی نئی کوشش نہیں بلکہ ترکی اور لیبیا 10 سال پہلے بھی ایسا ہی قدم اٹھا چکے ہیں۔

"ہم معاہدے کی شرائط پر پورا اتریں گے،” صدر نے کہا۔ "ترکی لیبیا اور شام میں اٹھائے گئے اقدامات سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ہم لیبیا کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے پس پردہ عوامل سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ہم نے حال ہی میں لیبیا کی قانونی حکومت کو بھرپور مدد فراہم کی ہے۔ اور اگر ضرورت پڑی تو اس مدد کے عسکری پہلوؤں میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور زمینی، سمندری اور فضائی تینوں پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔”

تبصرے
Loading...