ترکی ادلب میں چوکیاں خالی نہیں کرے گا، وزیرِ دفاع

0 307

وزیر دفاع خلوصی آقار نے کہا ہے کہ ترکی ادلب میں اپنی 12 چوکیاں خالی نہیں کرے گا اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ترک چوکیوں پر حملے کی صورت میں اسد رجیم کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ "اپنے خلاف کسی بھی کارروائی کی صورت میں فوجیوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیں۔ اس لیے جو بھی ہوگا، اس کا جواب دیا جائے گا۔ ہم بشار حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اِن حالات میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔”

ترک وزیر کا یہ تبصرہ قومی وزارتِ دفاع کے اِس بیان کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ترکی نے اسد رجیم کے 51 اہداف کا خاتمہ کیا ہے، جن میں دو ٹینک، ایک اینٹی ایئر کرافٹ اسٹیشن، ایک اسلحہ ڈپو کو تباہ کیا گیا اور ایک ٹینک چھینا گیا ہے۔

خلوصی آقار نے کہا کہ ” ادلب میں اسد رجیم کے حملے روکنے کے لیے یورپ اور اقوامِ عالم کو سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنے اہلکاروں اور فوجیوں کو وہاں سے واپس نہیں بلائیں گے۔ وہ اپنا مشن جاری رکھیں گے۔”

آقار نے یہ بھی کہا کہ "ترکی روس پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اسد حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور یقینی بنائے کہ شامی افواج طے شدہ سیز فائر لائن سے پیچھے رہیں، اور اہم شاہراہ کو خالی کر دیں۔ ہم بشار رجیم کے عناصر کو کہہ چکے ہیں کہ وہ فوری طور پر M5 روٹ سے نکل جائیں۔ ہم حملے فوری طور پر روکنےکا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ سیزفائر پر عمل درآمد ہوتا رہے اور ساتھ ہی لوگ اپنے گھروں اور سرزمین پر واپس آ سکیں۔”

دریں اثناء، ترک افواج اور سیرین نیشنل آرمی (SNA) نے ادلب میں آپریشن شروع کر رکھا ہے کہ جہاں بشار رجیم کے حملوں میں ترک ہلاکتوں کی تعداد 13 تک جا پہنچی ہے۔

انقرہ اور ماسکو نے پچھلے سال سوچی میں معاہدہ کیا تھا کہ وہ جارحیت روک دیں گے اور ادلب میں جنگ کا دائرہ محدود کریں گے، جس کی نگرانی ترکی کی 12 چوکیاں کریں گی۔ لیکن بشار حکومت، ایران کے حامی ملیشیا گروپ اور روس سیزفائر کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں اور علاقے پر پے در پے حملے کر رہے ہیں۔ علاقے کی تین چوکیاں – پوائنٹ سیون، ایٹ اور نائن – اِس وقت بشار حکومت کی افواج کے محاصرے میں ہیں۔

شامی حکومت کی افواج اپنی مسلسل جارحانہ کارروائیوں میں ادلب کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں کہ جن میں دسمبر سے اب تک 300 شہری مارے جا چکے ہیں اور 5,20,000 بے گھر ہوئے ہیں۔

پچھلے ایک سال میں سخت حملوں کی وجہ سے 15 لاکھ سے زیادہ شامی باشندے ترک سرحد کی جانب منتقل ہو چکے ہیں۔

ترکی مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں شامی خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے 37 لاکھ سے زیادہ مہاجرین آ چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...