ترکی مشرقی بحیرۂ روم کے تمام خصوصی اقتصادی زونز میں اپنے حقوق کا آخر تک تحفظ کرے گا

0 396

آق پارٹی کے گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے مشرقی بحیرۂ روم میں ہائیڈروکاربن تلاش کی سرگرمیوں پر ہونے والے تناؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ترکی مشرقی بحیرۂ روم کے تمام خصوصی اقتصادی زونز میں اپنے حقوق کا آخر تک تحفظ کرے گا اور وہاں موجود اپنے ترک بہنوں اور بھائیوں کے حقوق غصب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گا۔

صدر اور انصاف و ترقی پارٹی (آق) پارٹی کےرجب طیب ایردوان نے جماعت کے صدر دفاتر میں ہونے والے آق پارٹی کے گروہ اجلاس سے خطاب کیا۔

"ترکی کو حال ہی میں جن مسائل کا سامنا ہوا وہ ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں”

ترکی کو حال ہی میں جن مسائل کا سامنا ہوا انہیں ایک دوسرے سے متعلق قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کے پیچھے کون ہے۔ شمالی شام میں YPG/PYD ہے۔ کیا یہ PKK کی توسیع نہیں ہیں؟ انہیں سب سے زیادہ سپورٹ کون دیتا ہے؟ ہمارے اسٹریٹجک شراکت دار۔ کیا وہ انہیں ہزاروں ٹرکوں میں لدے ہتھیار، گولا بارود اور سب کچھ نہیں دیتے؟ بالکل دیتے ہیں۔ اس بارے میں ہم کیا بات کریں؟”

مشرقی بحیرۂ روم میں ہائیڈروکاربن تلاش پر تناؤ کا موضوع چھیڑتے ہوئے صدر مملکت نے زور دیا کہ یہ ترکی کے خلاف بچھائے گئے اقتصادی جالوں میں سے ایک ہے، اور کہا کہ ترکی نے ہائیڈروکاربن تلاش اور ڈرلنگ سرگرمیوں کے لیے چار بحری جہاز بھیجے اور ترک بحری افواج کی حفاظت میں کام محفوظ انداز میں جاری ہے۔ اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی ایک مرتبہ ہائیڈروکاربن ملنے کے بعد بین الاقوامی بحری قوانین کے مطابق اپنے اور ترک قبرصیوں کے حقوق کا تحفظ کرے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں تمام خصوصی اقتصادی زونز میں اپنے حقوق کا آخر تک تحفظ کرے گا اور کسی کو اپنے ترک بہنوں اور بھائیوں کے حقوق غصب کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

"ترکی S-400 ڈیفنس سسٹم پہلے ہی خرید چکا ہے”

S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی یہ پہلے ہی خرید چکا ہے، معاملہ طے ہو چکا ہے اور ان شاء اللہ یہ اگلے مہینے ہمارے ملک پہنچ جائے گا۔ یہ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نظام ہے۔ کیا ہمیں اپنے ملک کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات نہیں اٹھانے چاہئیں؟ کیا ہمیں اس حوالے سے کسی سے مشورہ کرنا چاہیے؟” یاددہانی کرواتے ہوئے کہ ترکی امریکا سے ایسا دفاعی سسٹم حاصل کرنا چاہتا تھا، صدر ایردوان نے کہا کہ امریکا نے کہا کہ کانگریس اجازت نہیں دے گی اور ہمیں یہ سسٹم فراہم نہیں کیا۔

F-35 پروجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی F-35 طیاروں کا محض خریدار نہیں بلکہ اس منصوبے میں پیداواری شراکت دار بھی ہے، ترکی اب تک اس منصوبے میں 1.25 ارب ڈالرز ادا کر چکا ہے۔ مزید زور دیتے ہوئے کہ ترکی بغیر کسی معقول وجہ کے اس منصوبے کے اخراج کے معاملے کو ہر فورم پر اٹھائے گا۔ صدر ایردوان نے مزید کہا کہ متعلقہ عہدیدار پہلے ہی اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ضروری مذاکرات کر چکے ہیں اور وہ جون کے اواخر میں جاپان میں صدر ٹرمپ سے بھی ملاقات کریں گے اور ان مسائل پر بالمشافہ بات کریں گے۔

ترکی کے انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ جرابلوس-آفرین لائن اور شمالی عراق میں دہشت گردوں کی گزرگاہوں کے خاتمے کی طرح ترکی دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں بھی ان کو تباہ کرے گا۔

تبصرے
Loading...