اگر ایف-35 طیارے نہ ملے تو ترکی متبادل دیکھے گا، وزیرِ دفاع

0 133

ترک وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ اگر امریکا "کسی بھی وجہ سے” ایف-35 لڑاکا طیارے فراہم کرنے میں ناکام رہا تو ترکی متبادل کی تلاش کرے گا۔

"سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی وجہ سے ایف-35 طیارے نہ ملنے پر ترکی متبادل پر نظر دوڑائے گا،” وزیر دفاع خلوصی آقار نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا۔

خلوصی آقار نے زور دیا کہ حال ہی میں روس سے خریدے گئے ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم ترکی کے دفاعی نظام میں شامل نہیں کیے جائیں گے بلکہ وہ ایک "علیحدہ سسٹم” کا حصہ ہوں گے۔

"یہی بات ہم امریکا کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازع کے آغاز سے کہہ رہے ہیں۔ ایس-400 مکمل طور پر ‘تنہا’ سسٹم ہوگا۔ ہم اسے کسی بھی طرح سے نیٹو سسٹمز میں شامل نہیں کریں گے۔ یہ علیحدہ کام کرے گا۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی ایف-35 پروگرام کے شریک ممالک میں سے ایک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا، انہوں نے کہا کہ ملک کے اتحادی بالخصوص امریکا کو بھی شراکت دار کی حیثیت سے ہی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

آقار نے کہا کہ ترکی کی جانب سے امریکی ساختہ پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹمز خریدنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ہی انقرہ نے ایس-400 سسٹم خریدا۔

ترکی کی جانب سے جدید روسی ایس-400 ایئر ڈيفنس سسٹم کے حصول پر امریکی انتظامیہ نے جولائی میں ترکی کو ایف-35 پانچویں جنریشن کے لڑاکا طیارے کے پروگرام سے نکال دیا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ روس ایس-400 کے ذریعے اس طیارے کی خفیہ معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

البتہ ترکی کا کہنا ہے کہ ایس-400 کو نیٹو سسٹمز کا حصہ نہیں بنایا جائے گا اور یہ نیٹو اتحاد کے لیے ہرگز کوئي خطرہ نہیں ہوگا۔

آقار نے کہا کہ شمالی شام میں ترکی-روس گشت علاقے کی نگرانی میں کارآمد تھی، کہ جہاں ترکی نے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے اور شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے آپریشن شروع کیا تھا۔

"میرا ماننا ہے کہ گشت کا یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں مزید فائدہ مند اور کامیاب ہوگا،” انہوں نے کہا۔

یہ کہتے ہوئے کہ انقرہ اور ماسکو نے علاقے سے PKK/YPG دہشت گرد تنظیم اور ان سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے انخلاء پر رضامند ہیں، آقار نے زور دیا کہ PKK/YPG دہشت گرد بدستور علاقے میں موجود ہیں اور وہ حالیہ چند دنوں سے ترک دستوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

آقار نے کہا کہ ترکی 2011ء میں شام میں خانہ جنگی کےآغاز سے ہی شام کے سیاسی و علاقائی سالمیت کا احترام کر رہا ہے۔ "ہماری کسی کی سرزمین پر نظریں نہیں ہیں۔ ہماری واحد خواہش اور ہدف اپنے ملک اور قوم کی حفاظت ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی بنیادی تشویش PKK/YPG اور داعش کے دہشت گرد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ PKK/YPG دہشت گرد حالیہ چند دنوں میں دریائے فرات کے مشرق میں رہنے والے لوگوں پر کم از کم 1200 مارٹر اور راکٹ حملے کر چکے ہیں۔ آپریشن چشمہ امن کے آغاز سے اب تک ترک سرحدی شہروں پر ان دہشت گردوں کے حملے میں 22 ترک شہری جاں بحق اور 200 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ترکی اپنے آپریشن کے دوران کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بنائے گا کہ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں کہ شہریوں، ماحول اور تاریخی و مذہبی مقامات کو نقصان نہ پہنچے۔

ترکی نے 9 اکتوبر کو شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں ترک سرحدوں کے تحفظ، شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی اور شام کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے آپریشن چشمہ امن کا آغاز کیا تھا۔ انقرہ چاہتا ہے کہ PKK/YPG کے دہشت گرد یہ علاقہ چھوڑ دیں تاکہ اسے سیف زون بنایا جا سکے اور یوں 20 لاکھ مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔

ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم PKK گزشتہ 30 سال میں 40 ہزار سے زيادہ شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں، کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔ YPG اسی PKK کی شامی شاخ ہے۔

تبصرے
Loading...