ترکی خود مختاری کی معاشی جدوجہد میں کامیابی حاصل کر کے رہے گا، صدر ایردوان

0 44

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ شرحِ سود کو محدود رکھنے سے افراطِ زر میں کمی نہیں آئے گی اور عزم ظاہر کیا کہ ترکی "خود مختاری کی معاشی جدوجہد” میں کامیابی حاصل کر کے رہے گا۔

کابینہ اجلاس کے بعد بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ انہوں نے ایک مسابقتی شرحِ تبادلہ کو ترجیح دی کیونکہ اس سے زیادہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ "میں ان پالیسیوں کو مستردکرتا ہوں جو ہمارے ملک کو جکڑتی ہیں، کمزور کرتی ہیں اور ہمارے لوگوں کو بے روزگار بناتیں اور بھوک اور غربت سے دوچار کرتی ہیں۔”

صدر نے زور دیا کہ حکومت ایک ایسی معاشی پالیسی کے ذریعے "ملک کے لیے درست راستے کا انتخاب” کرنے کا عہد کرتی ہے جس کی توجہ سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار کے مواقع اور برآمدات پر ہو، بجائے اس کے کہ "زیادہ شرحِ سود- کم شرحِ تبادلہ کے گھن چکر” میں پڑیں۔

گزشتہ جمعرات کو ترکی کے مرکزی بینک نے اپنی پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹ کی کمی کرتے ہوئے 15 فیصد کا اعلان کیا اور رواں سال کے اختتام سے پہلے مزید کمی کا اشارہ دیا۔ مرکزی بینک ستمبر سے اب تک 400 بیسس پوائنٹس کم کر چکا ہے۔

اس کمی سے ترک لیرا کے خلاف ڈالر کی قدر بڑھی ہے اور ایک ڈالر میں 11.40 لیرا مل رہے ہیں۔

صدر ایردوان نے لیرا کی شرح کم ہونے کا سبب ان سازشوں کو قرار دیا ہے جو غیر ملکی شرح تبادلہ اور شرح سود کے حوالے سے کھیلی جا رہی ہیں۔

"ہم شرحِ تبادلہ اور شرحِ سود پر کھیلے جانے والے کھیل دیکھ رہے ہیں۔ ہم ایک مستحکم طرزِ عمل کے ذریعے اپنے ہر میدان میں سرخرو ہوئے ہیں۔ اللہ کی مدد اور قوم کی تائید سے ہم معاشی خود مختاری کی جدوجہد میں بھی کامیاب ہو کر ابھریں گے۔”

صدر ایردوان نے اس امر کی تائید کی کہ کم شرحِ سود ہی افراطِ زر کے خاتمے کا واحد طریقہ ہے۔ انہوں نے برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔

صدر نے "موقع پرستوں” سے نمٹنے کے لیے حکومت کے عزم کی بھی تائید کی کہ جو "شرح تبادلہ میں اضافے” کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھا رہے ہیں۔”

حکومت نے سپر مارکیٹوں کو زیادہ قیمتوں کا مورد الزام ٹھیرایا ہے اور کسی بھی ممکنہ گٹھ جوڑ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اکتوبر میں افراطِ زر کی شرح میں سال بہ سال کی بنیاد پر 19.89 فیصد کا اضافہ ہوا تھا، جو اشیائے خورد و نوش، خدمات، تعمیرات اور سفر کے اخراجات میں اضافے کی وجہ بنا، جس کا اظہار عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے ہوتا ہے۔

مرکزی بینک کہتا ہے کہ افراطِ زر کا دباؤ عارضی ہے البتہ یہ 2022ء کے وسط تک برقرار رہے گا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ بلاشبہ ایسے معاشی مسائل موجود ہیں جو افراطِ زر یا قیمتوں میں اضافے کی وجہ بن رہے ہیں۔ معاشی توازن بگرا ہوا ہے کیونکہ جہاں افراط زر ہوگا، وہاں سرمایہ کاری نہیں ہوگی، اس سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا، پیداوار گھٹے گی اور روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔”

انہوں نے زور دیا کہ شرح تبادلہ میں اضافے کی وجہ سے مخصوص چیزوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں جس سے سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ان کا کہنا تھا کہ شرح تبادلہ میں مسابقت سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ملک میں اس وقت یہی صورت حال ہے۔

تبصرے
Loading...