ترکی نے میدان کے بعد میز کی جنگ بھی جیت لی

0 1,228

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 9 ستمبر 2019ء کو لکھے گئے خط کو پھاڑ کر کچرے میں پھینکنے کے بعد ترک افواج کو شام کے بارڈ پر بھیج دیا تھا۔ اور پھر جب چوتھے دن ترک افواج منبج کے مرکزی راستوں پر جا پہنچی تو امریکہ، یورپی یونین اور ان کے تمام کرداروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ روس اور امریکہ کے موجودگی میں ترکی  خطے کی ایک بڑی قوت کے طور پر نمودار ہوا تھا اور طاقت کے عناصر میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ جب امریکی دستوں نے ترک افواج کو راستہ دیتے ہوئے میدان خالی چھوڑ دیا تو کرد دہشتگرد تنظیموں نے راتوں رات بشار الاسد سے معاہدہ کیا اور سرحدی علاقے بشار الاسد کے حوالے کرنا شروع کر دئیے۔ بشار الاسد اور روس کو آگے بڑھتے دیکھ کر امریکہ نے خطے میں اپنے آپ کو بے بس پایا ۔ میدان جنگ  کو کامیاب رخ دیتے ہوئے ترک صدر ایردوان اور ان کی ٹیم نے  کل شام امریکی نائب صدرکی قیادت میں انقرہ  آئے   امریکی وفد سے  2 گھنٹے 40 منٹ کی طویل  نشت کی۔ اس طویل مذاکرات کے بعد ترکی نے میدان کے بعد میز پر بھی  جنگ جیت لی۔

ترکی اور امریکہ میں کیا کیا معاملات طے پائے ہیں، اس پر تیرہ نکاتی مشترکہ  اسٹیٹمنٹ جاری کی گئی ہے۔ جس کے مطابق امریکہ نے ترکی کے سرحدی تحفظات کو قبول کرتے ہوئے  نہ صرف  شام کے اندر 20میل (جو لگ بھگ32 کلومیٹربنتا ہے)  ایک سیف زون بنانے بلکہ اس میں تعاون کی حامی بھری ہے۔ ترکی اپنے آپریشن کو 120 گھنٹے روکے رکھے گا اور کرد دہشتگردوں کو اس سیف زون سے باہر نکلنے کا موقع دیا جائے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ ان کرد دہشتگردوں کو دیا گیا اسلحہ واپس لے گا ۔ اس کے علاوہ جو سیف زون قائم کیا جائے گا اس کا کنٹرول ترک فوج کے پاس ہو گا۔

اس ڈیل اسٹیٹمنٹ میں کوئی ایک بھی ایسا نکتہ نہیں جس کی ذمہ داری ترکی ڈالی گئی ہو کہ وہ کرے گا البتہ  سیف زون کے قیام کے بعد ترکی اپنے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرے گا۔اس   ڈیل  کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے ترکی سے اچھی خبر قرار دیا  اور ترک صدر ایردوان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں بہادر آدمی قرار دیا ہے۔ترک صدر ایردوان نے ان کو جواب دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم  اس وقت  مزیدانسانی جانوں کو بچا سکیں گے جب دہشتگردوں کے خلاف جنگ جیتیں گے۔

تبصرے
Loading...