ایردوان کی ناٹو مشقوں سے دستبرداری کی دھمکی، ناٹو نے معافی مانگ لی

0 257

Turkey withdraws NATO

ترکی نے ناٹو مشقوں سے اپنے 40 دستوں کو نکالنے کی دھمکی اس وقت دی ہے جب ترک صدر رجب طیب ایردوان کے نام اور ترکی کے بانی مصطفےٰ کمال اتاترک کی تصویر کو ناروے میں ہونی والی مشقوں کے دوران "دشمنوں کے چارٹ” میں شامل کر دیا گیا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یورپی طاقتیں کرد پی کے کے کے شامی ونگ پی وائی ڈی اور وائے پی جی کی مدد کر رہی ہیں اور خطے کے حالات کو دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے خراب کر رہی ہیں۔

آق پارٹی کے صوبائی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا: "انہوں نے ناروے میں ایک "دشمنوں کا چارٹ” بنایا۔ جس میں میرا نام اور اتاترک کی تصویر شامل کی گئی”۔

ترک صدر نے کہا کہ انہوں نے چیف آف جنرل اسٹاف خلوصی آقار اور یورپی امور کے وزیر عمر چالق سے معاملے کے متعلق بات چیت کی ہے۔ جس پر انہوں نے کہا ہے کہ ہم ناروے سے ان جنگی مشقوں سے اپنے 40 فوجی واپس بلا رہے ہیں۔ میں نے انہیں کہا ہے کہ اس عمل کو تیزی کے ساتھ کیا جائے۔ وہاں مزید ایسا کوئی اتحاد نہیں چل سکتا۔

ایردوان کی طرف سے سخت ریمارکس آنے کے بعد ناٹو نے کہا ہے کہ ایردوان اور اتاترک کے متعلق دو مختلف واقعات ہوئے ہیں۔ اور فوری طور پر نارویجن جوائنٹ وار فیئر سنٹر سے معافی نامہ جاری کیا گیا ہے۔

دوسری طرف ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے بھی واقعات پر معافی مانگی ہے۔

اسٹولٹن برگ نے بیان جاری کیا ہے کہ ناویجئن جوائنٹ وارفیئر سنٹر میں ہونے مشقوں نے دوران ہونے والے واقعات انفرادی غلطیاں ہیں اور ناٹو کے خیالات کا اظہار نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ فرد ایک شہری تھا جس کا مشقوں میں حصہ لینے کا پرمٹ ناروے نے جاری کیا تھا۔ وہ فوری طور پر مشقوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ اور اب یہ ناروے پر منحصر ہے کہ وہ اس فرد کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔

پہلے واقعے میں ایک تکنیکی افسر نے اتاترک کی تصویر کو دشمنوں کی لسٹ میں لگایا جو اس نے انٹرنیٹ سے لی تھی۔ ترک فوجی افسر نے واقعے کی تصدیق کی ہے اور اس تکنیکی افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

دوسرے واقعے میں ترک نسل کے نارویجئن افسر نے ناٹو کے اندرونی سوشل میڈیا نیٹ ورک پر ترک صدر ایردوان کی ایک فیک تصویر لگاتے ہوئے دشمن قرار دیا۔ ترک فوجی افسران کی نشان دہی پر اسے بھی مشقوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔

تبصرے
Loading...