ترک قبرصی باشندوں کی حق تلافی کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، ترکی

0 482

ترکی کے نائب صدر فواد اوقتائی نے کہا ہے کہ ترکی یونانی قبرص کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ ان کی باضابطہ حیثیت اور قدرتی وسائل کا فائدہ اٹھائے اور ان ترک قبرصی باشندوں کی حق تلافی کرے۔ "کوئی ترک قبرصی باشندوں کو اقلیت کا درجہ دینے نہ سوچے کیونکہ وہ اس جزیرے کے یکساں مالک ہیں،” اوقتائی نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ترک قبرصی باشندے کبھی اس حیثیت کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مشرقی بحیرۂ روم میں ترک قبرص کے حقوق کے تحفظ کے لیے ترکی کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترک نائب صدر نے کہا کہ واروشا (مراش) کے کھنڈرات میں بدل جانے والے شہر کی املاک تاریخی دستاویزات کے بنیاد پر اس کے حقیقی مالکان کو لوٹا دی جائیں گی اور شہر کو کھول دیا جائے گا۔

جزیرے کے مشرقی شہر فاماگوستا (ماغوسا) کے جنوب میں واقع واروشا قبرص کا مشہور سیاحتی علاقہ تھا جو اپنے خوبصورت ساحلوں کی وجہ سے مشہور تھا لیکن یہ شہر 1974ء سے بند ہے۔ اُسی سال ترکی نے ضامن کی حیثیت سے اپنا حق استعمال کیا اور جزیرے پر مداخلت کی۔ یونان کی پشت پناہی سے قبرص میں ہونے والی بغاوت کے بعد دہائیوں تک نسلی فسادات اور دہشت گردی کا دور دورہ رہا کہ جن میں ترک قبرصی باشندوں کو ہدف بنایا گیا جو محصور ہوکر چند علاقوں تک محدود ہوگئے۔ یونانی قبرص نے 1963ء میں یک طرفہ طور پر آئین میں ترمیم کرتے ہوئے جزیرے کے ترکوں کو سیاسی حق سے محروم کردیا تھا۔

آپریشن کے بعد ترک افواج نے واروشا شہر کو بند کردیا جب تک کہ جزیرے کے معاملے پر مستقل حل سامنے نہ آئے۔ یوں شہر کے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری رکھنے والے شہر کے 100 سے زیادہ ہوٹل بھی شامل تھے۔ یہ شہر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق محفوظ ہے اور اس میں صرف اصل باشندوں کو ہی دوبارہ آباد کیا جا سکتا ہے۔ البتہ 45 سال کے مذاکرات بے سود ثابت ہوئے اور قصبہ قانوناً ایک عسکری زون بن گیا ہے۔ اس متروکہ عمارتوں کی وجہ سے عام طور پر "کھنڈرات” ہی کہا جاتا ہے۔

اگر یونانی قبرص 2004ء میں جزیرے کے دوبارہ اتحاد کے لیے اقوام متحدہ کے عنان منصوبے کو قبول کر لیتا تو واروشا اب یونانی قبرص کے کنٹرول میں ہوتا اور اس کے مکین اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہوتے۔ اس کے باوجود جزیرہ نما کارپاس اور مورفو (غوزل یرت) علاقے میں بڑی رعایت ملنے کے باوجود یونانی قبرص میں اکثریت نے عنان منصوبے کے خلاف ووٹ دیا جبکہ ترک قبرص نے اس کے حق میں رائے دی تھی۔

واروشا کو یونانی قبرص کے حوالے کرنے کے بدلے میں ارجان ایئرپورٹ اور فاماگوستا بندرگاہ کے لامحدود استعمال کی اجازت ملنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) کا قیام 1983ء میں عمل میں آیا کہ جو جزیرے کے شمالی ایک تہائی علاقے پر قائم ہے۔ اسے صرف ترکی ہی تسلیم کرتا ہے اور تجارت، نقل و حمل اور ثقافت میں اسے طویل پابندیوں کا سامنا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری جمہوریہ قبرص کی حیثیت سے یونانی قبرص کی انتظامیہ کو تسلیم کرتی ہے۔

تبصرے
Loading...