ترکی ‏YPG کے لیے مسلسل امریکی حمایت پر خاموش نہیں رہے گا، صدر ایردوان

0 506

امریکا کی جانب سے شمالی شام میں PKK سے منسلک پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے دہشت گردوں کے لیے ہتھیاروں سے لدے 30,000 ٹرک بھیجے جانے پر خاموش نہیں رہے گا، صدر رجب طیب ایردوان نے کہا۔

اسکی شہر میں انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے صوبائی اجتماع سےخطاب کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ ترکی آئندہ چند ہفتوں میں شام میں دریائے فرات کے مشرق میں سیف زون کی تیاری پر کام کرے گا۔

شامی مہاجرین کے حوالے سے ترکی کی کوششوں پر یورپی یونین کی سپورٹ میں کمی کے حوالے سے ایردوان نے کہا کہ انقرہ اپنی سرحدیں کھول دے گا۔

دریں اثناء چیف آف جنرل اسٹاف یاشار گولر نے ٹیلی فون پر اپنے امریکی ہم منصب کو کہا کہ دریائے فرات کے مشرق میں سیف زون بغیر کسی تاخیر کے بننا چاہیے۔

پچھلے ہفتے ترک صدر نے زور دیا کہ اگر ترک سپاہیون کو شام میں سیف زون پر کنٹرول کی اجازت نہیں دی گئی تو ترکی اپنا عملی منصوبہ خود لاگو کرے گا۔ تین ہفتوں میں، اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سیشن کے دوران، ترکی دریائے فرات کے مشرق میں سیف زون کی تعمیر پر امریکا کے ساتھ سودے بازی کے آخری امکان کو استعمال کرے گا، انہوں نے کہا۔

7 اگست کو ترک اور امریکی فوجی عہدیداروں نے ایک سیف زون کے قیام اور دریائے فرات کے مشرق میں عراقی سرحد تک ایک پرامن راہ داری بنانے کی تیاری پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ اس وقت ترکی میں موجود بے گھر شامی باشندوں کو اپنے وطن واپس جانے میں مدد دی جائے اور ترک سرحدی آبادیوں اور فوجی چوکیوں کو سکیورٹی فراہم ہو۔ انہوں نے ایک جوائنٹ آپریشنز سینٹر کے قیام پر بھی اتفاق کیا۔ معاہدہ ترکی کے سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا احاطہ کرتا ہے۔

صدر نے گھٹتی ہوئی شرح سود کے موضوع پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ افراط زر کی شرح کم کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

"افراط زر کم ہو رہا ہے، ساتھ ہی شرحِ سود بھی اور دونوں ابھی مزید کم ہوں گے۔ کیپٹل مارکیٹ بورڈ جمعرات کو اجلاس طلب کرے گا اور میرا ماننا ہے کہ اس کے بعد شرحِ سود مزید کم ہوگی۔”

تبصرے
Loading...