ترکی اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے ایک بہترین مستقبل تیار کر رہا ہے، صدر ایردوان

0 193

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی خطے میں طویل عرصے سے جاری عدم استحکام کی وجہ سے پیدا شدہ انسانی بحرانوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا رہا ہے۔ موجود دور میں جب دنیا کا مستقبل ایک مرتبہ پھر اس جغرافیے سے جڑ چکا ہے، ترکی اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے شفاف ترین انداز میں، اخلاقی، ضمیر کی آواز کے مطابق اور بہترین مستقبل کے لیے کام کر رہا ہے۔ ”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔

ازمیر میں زلزلے کے بعد جاری امدادی کاموں کے حوالے سے صدر ایرودان نے کہا کہ اب تک ملبے سے 107 شہریوں کو نکالا جا چکا ہے اور یہ کام تب تک جاری رہے گا جب تک آخری شخص کو بھی نکال نہیں لیا جاتا۔

صدر نے زور دیا کہ وزارت داخلہ، وزارت صحت، وزارت ماحولیات و شہر کاری، وزارت خاندانی بہبود، محنت و سماجی خدمات، وزارت ٹرانسپورٹ اینڈ انفرا اسٹرکچر، وزارت توانائی و قدرتی وسائل، وزارت قومی دفاع، وزارت زراعت و جنگلات اور تمام متعلقہ ادارے زلزلے سے متاثرہ شہریوں کے لیے متحرک کیے گئے۔

"ہمارے ملک اور دنیا بھر میں ویکسین پر تحقیق پوری رفتار سے جاری ہے”

کرونا وائرس کی وباء کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ حالانکہ چند صوبوں میں مریضوں کی تعداد کبھی کبھار پریشان کن سطح تک پہنچ جاتی ہے، لیکن ترکی میں صحت کے مضبوط بنیادی ڈھانچے اور اس شعبے میں کام کرنے والے افراد کی کوششوں کی وجہ سے اب تک اس مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ویکسین پر تحقیق ہمارے ملک اور دنیا بھر میں پوری رفتار سے جاری ہے۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ رواں سال کے اختتام تک بیرونِ ملک بننے والی ایک یا زیادہ ویکسین کو استعمال میں لائیں۔ ہم اپنی تیار کردہ ویکسین بھی اگلے موسمِ بہار میں شہریوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔”

"ہم نے تمام مظلوم اور مقہور طبقوں کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھایا”

صدر ایردوان نے کہا کہ ” ترکی خطے میں طویل عرصے سے جاری عدم استحکام کی وجہ سے پیدا شدہ انسانی بحرانوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ترکی عراق سے شام اور لیبیا سے افریقہ کے اندر تک اس بحران زدہ خطے کے تمام مظلوم و مقہور طبقے کی مدد کے لیے اپنے سارے ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ حیران کن طور پر سب سے زیادہ شور و غل وہ مچا رہے ہیں، جنہوں نے محض اپنی سلامتی اور بہتری کی خاطر اس خطے اور دنیا کو آگ و خون میں دھکیلا ہے۔ گزشتہ 30 سال میں اس ذہنیت کی وجہ سے عراق میں 20 لاکھ، شام میں 10 لاکھ، بوسنیا میں لاکھوں اور افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا کے مختلف حصوں میں لاکھوں افراد کی جانیں گئی ہیں۔ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ نوآبادیات اور ظلم کا جو نظام ہم صدیوں سے چلا رہے تھے، اب ریزہ ریزہ ہو رہا ہے۔ وہ مظلوم طبقات اور ناانصافی کے شکار عوام کے کے دوست ترکی کو ہدف کا نشانہ بنا کر اپنے ان مسائل کو چھپانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔”

"میں ویانا میں ہونے والے حملے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں”

صدر ایردوان نے کہا کہ "اسلام پر حملے اس سطح پر پہنچ گئے ہیں کہ کوئی چھوٹا واقعہ بھی پیش آتا ہے تو بغیر کسی تحقیق کے فوراً الزام مسلمانوں پر لگ جاتا ہے۔ اگر ظالمانہ حرکت کرنے والا شخص مسلمان ہو تو واقعہ فوراً دہشت گرد حملہ اور مشتبہ شخص دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر مشتبہ شخص کسی دوسرے عقیدے سے تعلق رکھتا ہو، تو اسے کوئی پولیس واقعہ قرار دیا جاتا ہے یا پھر ملزم کی ذہنی حالت پر سوالات اٹھا کر معاملے کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں پیش آنے والے واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ اس طرح کے حملوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا چاہے اس کے پسِ پردہ کوئی بھی ہو۔” انہوں نے کہا کہ "میں زخمیوں کی صحت کی جلد بحالی کے لیے دعاگو ہوں اور ہلاک شدگان کے لیے آسٹریا کے عوام سے تعزیت کرتا ہوں۔”

"ترکی کا باوقار رویّہ بہت اہمیت رکھتا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ان ممالک میں کہ جہاں ماضی میں مسلمان سرے سے موجود ہی نہیں تھے، آج وہاں تقریباً 10 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اسی طرح افریقہ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا اور امریکا سے آسٹریلیا تک ایک وسیع جغرافیہ میں اسلام کا پھیلاؤ نہیں روکا جا سکتا۔ پھر یہ حالات اس وقت کے ہیں جب مسلمان مظلوم ہیں، ان کے ساتھ بُرا سلوک کیا جا رہا ہے، انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے، ان کا استحصال کیا جا رہا ہے اور ان کی توانائیاں داخلی تنازعات ہی میں ضائع ہو رہی ہیں۔ اسے 2200 سالہ ترک ریاست کی تاریخ اور اس کے دائرۂ اثر کے ساتھ اس ملا کر دیکھا جائے تو ایسی تصویر ابھرتی ہے جو کئی لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ قدرتی وسائل اور آبادیاتی طاقت سے کوئی صرفِ نظر نہیں کر سکتا، ساتھ ہی ایشیا، بحیرۂ روم اور تمام ملحقہ علاقوں کی تزویراتی اہمیت سے بھی کہ جو زمانہ قدیم سے مسلّم ہے۔ موجود دور میں جب دنیا کا مستقبل ایک مرتبہ پھر اس جغرافیے سے جڑا ہوا ہے، ترکی اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے شفاف ترین انداز میں، اخلاقی، ضمیر کی آواز کے مطابق اور بہترین مستقبل کے لیے کام کر رہا ہے۔ سیاسی و معاشی عالمی نظام کی دوبارہ تشکیل سے پیدا ہونے والے مسائل کے دور میں ترکی نے جو باوقار رویّہ اپنایا ہے، وہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں سزا دینے کے درپے وہ ہیں جن کا صدیوں سے قائم نظام ترکی نے تہہ و بالا کر دیا ہے اور وہ اس خوف کی وجہ سے حواس باختہ ہیں کہ کسی بھی لمحے یہ تاج محل اُن کے سروں پر نہ آن گرے۔ ہمارے ملک کو ہدف بنانے والے ہر الزام، ہر دھمکی اور ہر تہمت کے پیچھے یہی سچ چھپا بیٹھا ہے۔ ہمیں اپنی تہذیب اور تاریخ کی بدولت جو ذمہ داری ملی ہے، وہ ہم کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ یہ ہماری قوم کے لیے بڑا اعزاز ہے کہ ہم ایسا ورثہ رکھتے ہیں اور اسے مزید آگے لے جا سکتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...