دائیں اور بائیں دھاروں میں تقسیم کے باوجود ترکی میں حکمران جماعت، آق پارٹی کا ووٹ بنک محفوظ ہے، سروے

0 2,257

حالیہ عوامی سروے کے مطابق ترکی کی حکمران جماعت آق پارٹی نے کورونا وائرس اور معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنے ووٹ بنک کو محفوظ رکھا ہے۔ متعدد کمپنیوں نے گذشتہ ہفتے ترکی میں لوگوں کی سیاسی ترجیحات کے بارے میں اپنے عوامی سروے جاری کیے ہیں، جن میں سے تازہ ترین سب سے بڑی سروے ایجنسی سونار ریسرچ کمپنی کی جانب سے سامنے آیا ہے۔

سونار کے سربراہ حاقان بائریکچی نے سی این این ترک کے ذریعہ نشر ہونے والے اپنے سروے کے نتائج کا اعلان کیا، ان کے مطابق جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ اگر آج عام انتخابات ہوئے تو وہ کس کو ووٹ دیں گے، 39.8 فیصد نے آق پارٹی کے حق میں اپنی ترجیح کا اظہار کیا۔ تقریبا 27 فیصد نے کہا کہ مرکزی سیکولر اپوزیشن جمہوریت خلق پارٹی (سی ایچ پی) کو ووٹ دیں گے اور 11.3 فیصد نے کہا کہ وہ جمہور اتحاد میں آق پارٹی کی اتحادی ملیت حرکت پارٹی (ایم ایچ پی) کو ووٹ دیں گے۔ ملیت حرکت پارٹی کے بعد اچھی پارٹی (آئی پی) ہے، یہ پارٹی ملیت حرکت پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے تشکیل پائی تھی اور اس نے گذشتہ انتخابات میں سیکولر جمہوریت خلق پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔

بائرکچی نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس سروے میں ملک کے تمام صوبوں سے 2850 افراد نے شرکت کی ہے۔

سروے میں حصہ لینے والے افراد سے جب یہ پوچھا گیا کہ آج اگر صدارتی انتخابات ہوں کو وہ کس کو منتخب کریں گے تو 41.5 فیصد افراد نے موجود ترک صدر رجب طیب ایردوان کو ترجیح دی۔ جبکہ ان کے مقابلے میں سابق صدارتی امیدوار محرم اینجے، جمہوریت خلق پارٹی کے چئیرمین کمال کلیچدار اولو، کرد جماعت پیپلز جمہوری پارٹی کے نائب چئیرمین صلاح الدین دیمیرتاش، اچھی پارٹی کی سربراہ میراک آقشینئر، استنبول کے موجود مئیر اکرم امام اولو، انقرہ کے مئیر منصور یاوش سمیت دیگر رہنماؤں نے 10، 10 فیصد سے کم ترجیح پائی۔

سروے میں جب سوال کیا گیا کہ کورونا وائرس وباء کے خلاف جنگ میں حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں یا نہیں تو 60.2 فیصد نے کہا کہ وہ حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں جبکہ 26.8 فیصد مطمئن نہیں تھے۔

اپوزیشن پارٹی کی کارگردگی سے 62 فیصد افراد غیر مطمئن پائے گئے۔

یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومت 2023ء سے قبل از وقت انتخابات کروائے گی تاہم ریاستی عہدیداروں نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔

2017ء میں ایک عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں 51.4 فیصد عوام نے ملک کا نظام تبدیل کر دیا تھا جس کے بعد 2018ء کے صدارتی انتخابات نے ترک صدر ایردوان نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 52.4 فیصد ووٹوں سے اقتدار دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔ نئے صدارتی نظام کے تحت 50 فیصد سے زائد ووٹ لینا ضروری ہیں۔ اگر پہلے راؤنڈ میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کر پائے تو دوسرے راؤنڈ میں پہلے راؤنڈ کے اولین امیدوار دوبارہ میدان میں اتریں گے۔

آق پارٹی نے گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں 42.5 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔

او آر سی کے ایک دوسرے سروے نے بھی اس سے قبل حکمران جماعت آق پارٹی کو اگلے انتخابات کی فیورٹ پارٹی قرار دیا تھا۔

او آر سی نے ملک کے 41 صوبوں سے 4120 لوگوں کی رائے پر اپنا سروے جاری کیا اور کہا کہ 36.6 فیصد آق پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر سیکولر جمہوریت پارٹی کو 25.9 فیصد اور تیسرے نمبر پر ایردوان کی اتحادی ملیت حرکت پارٹی کو 14.1 فیصد لوگ ووٹ دینا پسند کریں گے۔ او آر سی کے سروے میں اچھی پارٹی اور کرد پیپلز جمہوری پارٹی، 10، 10 فیصد سے کم ترجیح حاصل کر پائیں۔

او آر سی کے سروے میں عوامی رائے کی بنیاد پر دعوی کیا گیا ہے کہ ایردوان سے اختلاف کرتے ہوئے پروفیسر احمدت داؤد اولو کی مستقبل پارٹی اور علی بابا جان کی دیوا پارٹی 3، 3 فیصد سے کم ووٹ حاصل کر پائیں گی۔

سونار اور او آر سی کے دونوں سروے اس بات پر مشترک رائے دیتے ہیں کہ حکمران جمہور اتحاد آئندہ انتخابات میں بھی 50 فیصد سے زائد ووٹ برقرار رکھتے ہوئے اپنا اقتدار جاری رکھے گا۔ صدارتی نظام میں 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا اقتدار میں آنے کے لیے لازم ہے۔

ان سروے پر تبصرہ کرتے ہوئے حکمران آق پارٹی کے نائب چئیرمین ماہر اونال کا کہنا ہے کہ پارٹی کا ووٹ بنک 42-44 فیصد سے کم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اتحاد اور رجب طیب ایردوان کا اپنا ووٹ بنک 52 فیصد سے زیادہ ہے اور آق پارٹی کے اپنے سروے اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

تبصرے
Loading...