ترکی کا قدیم خزانہ گوبیکلی تپہ، 7 مہینوں میں 20 لاکھ سیاحوں کی آمد

0 1,085

دنیا کا قدیم ترین معبدگوبیکلی تپہ (Göbeklitepe) ابتدائی انسانی تہذیب کا گہوارہ ہے۔ یہ ترکی کے شمال مشرقی صوبے شانلی اورفا میں واقع ہے اور اس سال مقامی اور غیر ملکی سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ صرف سات مہینوں میں 20 لاکھ سیاح یہاں آ چکے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان نے دسمبر 2018ء میں سیاحت کے لیے 2019ء کو گوبیکلی تپہ کا سال قرار دیا تھا تاکہ اس تاریخی مقام کو فروغ دیا جا سکے، جسے مقامی و عالی سطح پر انسانی تاریخ کا نقطہ آغاز کہا جاتا ہے۔

"صدر کی جانب سے 2019ء کو گوبیکلی تپہ کا سال قرار دیے جانے کے بعد شانلی اورفا میں سیاحت کو زبردست فروغ ملا ہے اور گوبیکلی تپہ سیاحت کا مرکز بن چکا ہے۔ ہمارے خیال میں اس سال کے اختتام تک 40 لاکھ افراد گوبیکلی تپہ کا دورہ کر چکے ہوں گے،” علاقائی چیمبر آف ٹورسٹ گائیڈز کے ڈپٹی چیئرمین سلیم باقر نے ایک بیان میں کہا۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی آمد سے بڑھنے والی طلب کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے 46 افراد کو اس مقام کی تاریخ و ثقافت پر تربیت اور خصوصی کورسز کروائے ہیں جو 128 رکنی گائیڈز کے عملے میں شامل ہو گئے ہیں۔

گوبیکلی تپہ یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ مقام ہے اور اسے کئی عالمی اداروں کی جانب سے دنیا کا قدیم ترین معبد قرار دیا گیا ہے۔ اسے 1963ء میں استنبول اور شکاگو یونیورسٹیز کے محققین نے دریافت کیا تھا۔

جرمنی آرکیالوجیکل انسٹیٹیوٹ اور شانلی اورفا میوزیم 1995ء سے اس مقام پر مشترکہ کھدائی کر رہے تھے۔ اسی سال جرمن پروفیسر کلاس شمٹ نے کھدائی کا آغاز کیا تھا، جنہوں نے ان پرانی دریافتوں پر روشنی ڈالی جو محققین میں عرصے سے بحث کا سبب تھیں۔ انہوں نے نیو لیتھک عہد کے T کی شکل کے مربع مینار دریافت کیے جو 10 سے 20 فٹ (3 سے 6 میٹر) بلند تھے اور ان کا وزن 40 سے 60 ٹن تھا۔

کھدائی کے دوران متعدد تاریخی نوادرات بھی دریافت ہوئیں کہ جن میں 26 انچ کا ایک انسانی مجسمہ بھی تھا جو 12 ہزار سال پرانا ہے۔

گوبیکلی تپہ میں آثار قدیمہ کی دریافت سے پہلے آثار شناسی کے حلقوں کا ماننا تھا کہ انسان نے شکار چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کرکے معبد بنائے تھے؛ البتہ گوبیکلی تپہ کو شکاری برادریوں نے ہی بنایا تھا، وہ بھی زراعت اختیار کرنے سے کہیں پہلے، اس حقیقت نے اس پورے مکتبہ فکر کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔

یہ مقام یادگاروں، مقدس مقامات یا علامتی خصوصیات رکھنے والے کسی بھی جدید سماجی نظام کے قیام کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔ دیگر مقدس مقامات کے برعکس کہ جہاں رسومات قدرتی مقامات جیسا کہ غاروں میں ادا کی جاتی تھیں، گوبیکلی تپہ بڑے اور چھوٹے مربع ڈھانچوں پر کھڑا ہے جسے انسانوں نے ہی تعمیر کیا۔ تاریخ دانوں اور ماہرین آثار قدیمہ کا ماننا ہے کہ ایسے ڈھانچوں جیسا کہ ستونوں کی تعمیر نیو لیتھک عہد کے آبا و اجداد یا دیوتاؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ بحالی کے کام کی وجہ سے عارضی طور پر بند کیے جانے کے بعد گوبیکلی تپہ کو فروری میں جزوی طور پر کھولا گیا۔

تبصرے
Loading...