ترکی کا سالانہ افراطِ زر جولائی میں کم ہوتا ہوا 11.76 فیصد تک آ گیا

0 157

ترکی میں صارفین کے لیے افراطِ زر کی شرح جولائی میں سال بہ سال کی بنیاد پر 11.76 فیصد پر پہنچ گئی ہے جو توقعات سے کہیں کم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلسل دو مہینے تک اضافے کے بعد افراطِ زر کی شرح میں کمی آئی ہے کیونکہ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد ملک میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔

ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) کا کہنا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر دیکھیں تو صارفین کے لیے قیمتوں میں جولائی میں 0.58 فیصد کا اضافہ ہوا۔

وزیر خزانہ و مالیات بیرات البیراک نے ٹوئٹر پر بتایا کہ "ہم افراطِ زر کے خلاف اپنے اہداف تک پہنچنے اور اس ضمن میں اہم اقدامات اٹھانے کی جدوجہد پورے عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے۔”

رائٹرز کے ایک پول نے ماہانہ 0.9 فیصد اضافے جبکہ انادولو ایجنسی کے ایک پول میں 15 ماہرین معیشت نے 0.82 فیصد اضافے کی پیشن گوئی کی تھی۔

جولائی میں قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں ہوا، جہاں 2.44 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ملبوسات اور جوتوں کی قیمتوں میں 3.48 فیصد کی کمی آئی۔ اہم اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 1.28 فیصد کی کمی آئی۔

مرکزی بینک (CBRT) جس نے جون سے پالیسی کی شرح 8.25 پر رکھی ہوئی تھی، قیمتوں میں اضافے کو بنیاد بناتے ہوئے پچھلے ہفتے رواں سال کے اختتام تک افراطِ زر کی شرح کے 7.4 فیصد سے 8.9 فیصد تک جانے کی پیشن گوئی کی ہے۔

گورنر بینک مراد اوسال نے کہا کہ وبائی صورت حال معمول پر آنے کے بعد افراط زر کی شرح جولائی سے کم ہو رہی ہے۔

تبصرے
Loading...