ترکی کی سالانہ افراطِ زر کی شرح ستمبر میں 9.26 فیصد تک گر گئی

0 179

ترکی کی سالانہ افراطِ زر کی شرح ستمبر میں 9.26 فیصد تک گر گئی، ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) نے جمعرات کو بتایا۔

ستمبر میں سالانہ افراطِ زر اگست میں 15.01 فیصد سے 5.75 فیصد تک آ گیا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ یہ جولائی 2017ء کے بعد پہلی بار دہرے ہندسے سے نیچے واحد ہندسے میں پہنچی ہے۔ ادارہ نے بتایا کہ اگست میں قیمتوں میں سب سے زیادہ سالانہ اضافہ شراب اور تمباکو میں دیکھا گیا جو 43.86 فیصد تھا۔

"جن شعبوں میں بہت زیادہ سالانہ اضافہ دیکھا گیا ان میں صحت کے شعبے میں متفرق مصنوعات اور خدمات کے ساتھ 15.41 فیصد اور خدمات کے ساتھ 14.98 فیصد، ہوٹل، کیفے اور ریستورانوں کے ساتھ 14.98 فیصد اور تعلیم میں 14.00 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔”

منگل کو ایک سروے میں ظاہر ہوا تھا کہ 14 ماہرینِ معیشت کے ایک گروپ نے ستمبر میں صارفی قیمتوں میں 9.64 فیصد کے اوسط سالانہ اضافےکی پیشن گوئی کی تھی۔

ماہرین معیشت نے سال کے اختتام تک ترکی کی سالانہ افراطِ زر کو اوسطاً 12.99 فیصد پر جانے کی پیشن گوئی کی – جن میں کم از کم 9.8 فیصد اور زيادہ سے زیادہ 13.93 فیصد ہے۔

ستمبر میں ادارہ شماریات نے بتایا کہ صارفی قیمتوں میں ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر 0.99 فیصد اضافہ ہوا۔

"سب سے زيادہ ماہانہ اضافہ تعمیرات کے شعبے میں ہوا۔ سب سے زيادہ ماہانہ کمی اشیائے خورد و نوش اور عام مشروبات میں 0.60 فیصد تھا۔”

"ستمبر 2019ء میں 418 اشیاء میں سے 42 کی اوسط قیمتیں برقرار رہیں جبکہ 292 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 84 کی قیمتوں میں کمی آئی۔” ادارے نے بتایا۔

اعداد و شمار نے یہ بھی ظاہر کیا کہ صاری قیمتوں میں 12 ماہ کا اوسطاً اضافہ اس سمبر میں 18.27 فیصد تھا۔

سوموار کو اعلان کردہ ترکی کے نئے اقتصادی پروگرام میں افراطِ زر کی شرح کو اس سال 12 فیصد تک اور اگلے سال 8.5 فیصد اور 2021ء تک 6 فیصد تک لے جانے کا اعلان کیا گیا۔

گزشتہ دہائی میں سالانہ افراطِ زر نے مارچ 2011ء میں 3.99 فیصد کی کم ترین شرح دیکھی تھی جبکہ یہ اکتوبر 2018ء میں 25.24 فیصد کی بلند ترین شرح تک پہنچی تھی۔

تبصرے
Loading...