ترکی کا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن شمالی شام کے باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے، صدر ایردوان

0 1,313

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی کا شمالی شام میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن وہاں رہنے والوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔

"مغرب اور امریکا ترکی پر کُردوں کے قتل کا الزام لگا رہے ہیں۔ کرد ہمارے بھائی ہیں۔ ہماری لڑائی دہشت گرد گروپوں کے خلاف ہے،” انہوں نے استنبول کے دولماباخچہ محل میں "دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور علاقائی روابط کا استحکام” کے عنوان سے پارلیمان کے صدور کی تیسری کانفرنس کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

"دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا مقصد شمالی شام کے تمام لوگوں– عربوں، کردوں، یزیدیوں، کلدانیوں – کے حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ شام کو تقسیم کرنا،” صدر ایردوان نے زور دیتے ہوئے کہا۔

"ترکی دریائے فرات کے مشرقی علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے اپنی سرحدوں کے تحفظ اور شامی شہریوں کی وطن واپسی کو یقینی بنائے گا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے دریائے فرات کے مغربی علاقے سے کیا۔” ان کا اشارہ 2016ء سے اب تک ہونے والے پچھلے آپریشنز کی طرف تھا۔

صدر نے کہا کہ شمالی عراق و شام میں ترکی کے انسداد دہشت گردی آپریشنز نے کبھی ان ملکوں کی علاقائی سالمیت اور حقِ حکمرانی کو ہدف نہیں بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی شمالی شام میں پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) سے لڑنے کا مزید انتظار نہیں کرے گا کہ جس نے سینکڑوں شہریوں کا قتل کیا ہے۔

YPG نے جمعرات کو ترکی کے سرحدی قصبے آق چقالہ، شانلی عرفہ میں ایک شامی بچے کا قتل کیا ہے، صدر ایردوان نے بتایا۔ "YPG نے اس سے پہلے سینکڑوں شہریوں کو قتل کیا ہے،” انہوں نے کہا اور زور دیا کہ ترکی مزید انتظار نہیں کر سکتا۔

ترکی نے شمالی شام میں داعش اور PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) سے منسلک دہشت گردوں کو ہدف بنانے کے لیے تیسرے آپریشن "آپریشن چشمہ بہار” کا آغاز 9 اکتوبر شام 4 بجے کیا ۔

ترکی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ آپریشن کر رہا ہے، جس کا ہدف دریائے فرت کے مشرق کے علاقے میں دہشت گردی سے پاک ایک سیف زون قائم کرکے وہاں شامی باشندوں کی واپسی کو ممکن بنایا ہے کہ جو اس وقت امریکا کی پشت پناہی سے کام کرنے والی شامی جمہوری افواج (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جن میں YPG دہشت گردوں کی اکثریت ہے۔

PKK – جسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں – نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا نتیجہ تقریباً 40,000 لوگوں کی موت کی صورت میں نکلا ہے، جن میں عورتیں، بچے اور شیرخوار بھی شامل ہیں۔

ترکی بہت عرصے سےشمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں موجودہ دہشت گردوں سے درپیش خطرے کی نشاندہی کرتا آیا ہے، اور وہاں "دہشت گردوں کی پناہ گاہیں” بننے سے روکنے کے لیے فوجی اقدام اٹھانے کا عہد کرتا رہا ہے۔

2016ء سے اب تک ترکی شمال مغربی شام میں فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون نامی آپریشن کر چکا ہے اور علاقے کو YPG/PKK اور داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کروا چکا ہے، جو تقربیاً 4,00,000 شامی شہریوں کی وطن واپسی ممکن بنا رہا ہے۔

تبصرے
Loading...