ترکی کے سرحد پار آپریشنز نے 5,80,000 شامی مہاجرین کی واپسی کو ممکن بنایا

0 297

ترک وزارت دفاع نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ترکی کے سرحد پار آپریشن فرات شیلڈ، آپریشن شاخِ زیتون اور حالیہ آپریشن چشمہ امن نے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا ہے کہ جس کی بدولت دہشت گردوں سے پاک کرائے گئے علاقوں میں 5,80,000 شامی مہاجرین کی واپسی ممکن ہوئی۔

سال کے اختتام پر دارالحکومت انقرہ میں وزارت کی پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ کمانڈر نادیدہ شبنم آق توپ نے کہا کہ ان آپریشنوں کا مقصد شام کی مدد کے ذریعے خطے میں قیامِ امن اور استحکام کے ساتھ ساتھ مہاجرین کی وطن واپسی کو ممکن بنانا اور ترکی کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا خاتمہ بھی تھا۔

ترکی نے سرحد پار دو آپریشن دریائے فرات کے مغرب میں کیے جن میں سے آپریشن فرات شیلڈ اگست 2016ء میں شروع کیا گیا اور آپریشن شاخِ زیتون جنوری 2018ء میں تاکہ اپنی سرحدوں سے YPG اور داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ کیا جائے۔

آپریشن فرات شیلڈ مارچ 2017ء میں مکمل ہوا اور علاقے کو محفوظ بنا لیا گیا جبکہ داعش کے خلاف جنگ بدستور جاری ہے۔ 2019ء کے آغاز سے اب تک 492 داعش دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب اس نے 3,80,000 شامی مہاجرین کی رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کو ممکن بنایا۔

آپریشن شاخِ زیتون مارچ 2018ء میں مکمل ہوا لیکن خطے کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ علاقے کی آزادی کے بعد 65,000 شامی واپس گئے۔

ترکی بارہا آواز اٹھاتا آیا ہے کہ شام میں طویل المیعاد استحکام اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے ملک بدر شامی باشندوں کی اپنے علاقوں میں واپسی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ۔

حالیہ آپریشن چشمہ امن کے بعد کہ جو 9 اکتوبر کو شروع ہوا، بموں اور دیگر دھماکا خیز آلات کی صفائی کا کام شروع کیا گیا اور مقامی کونسلوں کو انتظامی ذمہ داریاں دی گئی ہیں تاکہ مہاجرین کی واپسی کے لیے پرامن ماحول بنایا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے 60 فیصد افراد ان علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں کہ جہاں آپریشن چشمہ امن ہوا۔

ان آپریشنز کے دوران ترکی نے ماحول، مذہبی و ثقافتی مقامات اور شہریوں کے تحفظ پر بہت زیادہ زور دیا۔ حالات کو معمول پر لانے کی کوششوں کے طور پر 66 میں سے 40 مجوزہ کنٹرول پوائنٹس علاقے میں بنائے گئے اور 1,35,000 شامی واپس آئے۔

ترکی ایسا ملک ہے کہ جسے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور ہونے والی شامی باشندوں کی بقاء کی جدوجہد میں اپنی کاوشوں پر دنیا بھر مین سراہا گیا۔ 37 لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین کی میزبانی کرکے اور ان کی ضرورت پر اربوں ڈالرز خرچ کرکے ترکی کی نظریں مناسب آبادکاری کرنے اور ترکی کے زیر انتظام شامی علاقوں میں رہنے کے لیے حالات کو بہتر بنانے پر مرکوز ہیں۔

ترک مسلح افواج نے 2019ء میں فوجی آپریشنز میں 1,789 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف ترکی کی جنگ میں داخلی اور سرحد پار آپریشنز فوج کا معمول ہیں کہ جن میں دہشت گردوں، ان کے آلات، اسلحے، غاروں، پناہ گاہوں اور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے تحت 2019ء میں PKK دہشت گردوں کے خلاف 150 آپریشنز کیے گئے کہ جن میں سے 31 ہمہ گیر اور 119 درمیانے درجے کے تھے۔ مزید برآں، 255 دہشت گردوں نے خود ہتھیار ڈالے۔

1,852 بندوق خانوں، پناہ گاہوں اور ذخائر کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ 1,066 دھماکا خیز آلات کو ٹھکانے لگایا گیا۔

وزارت نے بتایا کہ آپریشن پنجہ (Claw) ڈرون کے بھرپور استعمال کے ساتھ جاری ہے اور 174 دہشت گردوں اور ان کے 398 غار اب تک اس آپریشن میں ختم کیے جا چکے ہیں۔

27 مئی کو ترکی نے شمالی عراق کے علاقے میں آپریشن پنجہ کا آغاز کیا۔ جاری آپریشن نے درجنوں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ کامیاب کارروائی کے بعد 12 جولائی سے آپریشن پنجہ -2 شروع کیا گیا۔ پھر 23 اگست سے آپریشن پنجہ-3 کا آغاز کیا گیا تاکہ سرحد کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنایا جائے، خاص طور پر جنوب مشرقی ترکی اور شمالی عراق کے علاقوں میں۔

حال ہی میں 23 دسمبر کو دہشت گردوں کے سامان کا بڑا حصہ عراق کے علاقے ہرکوک میں پکڑا گیا کہ جن میں SA18 ایئر ڈیفنس میزائل بھی شامل تھا۔

ترک فوج نے سرحدوں اور سرحدی گزر گاہوں کے تحفظ پر بھی کافی زور دیا ہے اور 776 دہشت گردوں کو پکڑا ہے۔

ترک فوج کی توجہ مشرقی و شمال مشرقی صوبوں میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز پر ہے کہ جہاں PKK کے دہشت گرد اکٹھے ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

قبل ازیں حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ترک سرحدوں کے اندر PKK دہشت گردوں کی تعداد 600 سے نیچے جا چکی ہے۔

ترکی کے خلاف 30 سال طویل دہشت گردانہ مہم کے دوران PKK بچوں اور عورتوں سمیت تقریباً 40,000 اموات کی ذمہ دار ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترکی، امریکا اور یورپی یونین نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

تبصرے
Loading...