صدر ایردوان نے کرپٹو کرنسی کو معیشت کا حصہ بنانے کیلئے قانون سازی کا اعلان کردیا

0 1,098

ترکی بہت جلد کرپٹو کرنسی کے حوالے سے اقدامات کرتے ہوئے اسے قومی معیشت کا حصہ بنائے گا۔ کرپٹو کرنسیز عالمی سطح پر کئی حکومتوں اور مرکزی بینکوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں پریس نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کرپٹو کرنسیوں سے متعلق ایک قانون تیار ہے اور جلد ہی قومی اسمبلی میں اس پر بحث کی جائے گی، انہوں نے اس موقع پر ترکی کے نئے اقتصادی ماڈل اور مالیاتی ماڈل پر تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اپریل میں دو کرپٹو کرنسی ایکسچینج کے خاتمے کے بعد ترکی پہلے سے ہی ڈیجیٹل ٹوکنز کی مارکیٹ کے اصول و ضوابط بنانے پر اپنے کام کو تیز کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کی فنانشل کرائم انویسٹیگیشن بوڈر کرپٹو کرنسی ایکسچینج کو مانیٹر کرتے ہوئے، معروف کرپٹو فورم بنانسے پر 8 بلین لیرا کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ 

بلومبرگ کی ایک رپورٹ نے اس وقت منصوبوں سے واقف ایک سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مخالف فریق کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک مرکزی نگہبان بینک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری طرف بنانسے ترکی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تمام معاملات میں ریگولیٹری اور سپروائزی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس قانون سازی میں کھل کر حصہ لے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر تبدیل ہوتی پالیسیوں، قوانین اور اصول پر عمل کرے گا۔ بنانسے ترکی نے مزید کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ مستحکم، صحتمندانہ اور محفوظ ایکوسسٹم قائم کر سکیں۔

ترکی میں پہلے سے بڑھتے ہوئے کرپٹو بوم نے سال بھر میں مزید رفتار پکڑی کیونکہ سرمایہ کاروں نے اس امید پر کرپٹو کرنسیز میں پناہ لینے کی کوشش کی تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی ہوئی افراط زر اور کرنسی ایکسچینج کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

ترکی کے مرکزی بنک کے گورنر شہاب کاوجی اولو نے کہا کہ مرکزی بینک کرپٹو کرنسی کے حوالے سے وسیع تر اصول و ضوابط پر کام کر رہا ہے۔ تاہم ان ڈجیٹل کرنسیوں پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ترکی انوویشن انڈیکس میں 55ویں پوزیشن پر آ گیا اور جدید ٹیکنالوجی نہ صرف اپنانے بلکہ اعلی سطحی حصہ ملانے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ترکی ٹیکنوفیسٹ کے نام ہر سال بڑے پیمانے پر سرگرمی کرتا ہے جس کا صدر ایردوان بھی دورہ کرتے ہیں اور شامل ہوتے ہیں

ڈالر کا استعماری نظام اور ترک حکومت کی استقامت – سید سعادت اللہ حسینی

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: