ترکی کا ڈرِل شپ فاتح بحیرۂ اسود کے اہم مشن پر روانہ

0 2,292

ترکی کا پہلا آئل اور گیس ڈرِل کرنے والا بحری جہاز فاتح شمال مشرقی ترکی کے شہر طرابزون سے جمعے کو بحیرۂ اسود کے اس مشن پر روانہ ہو گیا ہے کہ جس کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

فاتح کے 103 میٹر بلند ٹاورز مئی کے اواخر میں استنبول کی حیدر پاشا بندرگاہ میں کھولے گئے تھے تاکہ یہ بحری جہاز باسفورس کے پلوں کے نیچے سے بحفاظت گزر سکے جس کے بعد یہ دوبارہ اسمبل ہونے کے لیے 6 جون کو طرابزون کی بندرگاہ پہنچا۔

ڈیڑھ مہینے تک تیاری کے بعد فاتح جولائی کے وسط میں بحیرۂ اسود کے ٹونا-1 زون میں ڈرلنگ کی پہلی سرگرمی کا آغاز کرے گا۔ اس کا اعلان توانائی و قدرتی وسائل کے وزیر فاتح دونمیز نے کیا۔

استنبول کے عثمانی فاتح سلطان محمد کے نام سے موسوم یہ بحری جہاز اس علاقے میں کام کرے گا جہاں عرصے سے سرگرمیاں معطل تھیں۔

229 میٹر طویل بحری جہاز کا مجموعی وزن 5,283 ٹن ہے اور زیادہ سے زیادہ 40 ہزار فٹ کی گہرائی تک ڈرِنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترک ڈرلنگ کے عمل دو زمروں میں آتے ہیں: ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی جانب سے ترکی کو دیے گئے اجازت یافتہ علاقے اور ملک کی قومی آئل کمپنی ترکش پٹرولیم کارپوریشن کے علاقے۔

ترکی اب تک مشرقی بحیرۂ روم میں ڈرلنگ کی چھ اسٹڈیز مکمل کر چکا ہے جبکہ ڈرلنگ بحری جہاز یاوُز سلجوقلو-1 زون میں ساتویں اسٹڈی پر کام کر رہا ہے جو جزیرہ قبرص کے مغرب میں ہے۔

ترکی کا تیسرا ڈرل شپ قانونی 15 مارچ کو بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع شہر تاشوجو، مرسین میں پہنچا ہے۔

بحالی اور اپگریڈ اسٹڈیز کے بعد قانونی اس سال بحیرۂ روم میں آپریشنز کا آغاز کرے گا۔

انقرہ نے پچھلے سال ڈرلنگ بحری جہاز مشرقی بحیرۂ روم میں بھیجے تھے تاکہ خطے میں ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے حقوق پر زور دے۔ یہ علاقے مکمل طور پر ترک کے براعظمی کنارے (continental shelf) میں آتے ہیں جو اقوامِ متحدہ اور ان پرمٹ لائسنسز کے مطابق جو ترکش پٹرلیم کارپوریشن کو پچھلے سالوں میں ترک حکومت نے جاری کیے ہیں۔

ایتھنز اور یونانی قبرص کی انتظامیہ نے اس قدم کی مخالفت کی ہے، اور جہازوں کے عملے کی گرفتاری کی دھمکی دی اور یورپی یونین کے رہنما بھی اس تنقید میں اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔

انقرہ نے ہر موقع پر کہا کہ وہ توانائی کو خطے میں مزید تناؤ بڑھانے کی نہیں بلکہ مسئلہ قبرص کے حل کے لیے ایک سیاسی حل کے لیے فائدہ مند حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے۔

ترکی شمالی قبرص کا ضامن ملک ہے اور مشرقی بحیرۂ روم میں یونانی قبرص کی انتظامیہ کی یک طرفہ ڈرلنگ کی مسلسل مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس علاقے کے وسائل پر شمالی قبرص کا بھی حق ہے۔

1974ء میں یونان کی جانب سے قبرص پر قبضہ کرنے کی کوشش کے بعد انقرہ کو جزیرے کی ضامن ریاست کی حیثیت سے مداخلت کرنا پڑی۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا قیام 1983ء میں عمل میں آیا۔

تبصرے
Loading...