ایف-35 پروگرام سے ترکی کا اخراج، امریکی قدم اتحاد کی روح کے خلاف ہے، انقرہ کا سخت ردعمل

0 275

روس کے تیار کردہ S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کی وجہ سے F-35 پروگرام سے نکالے جانے کے امریکی فیصلے پر ترکی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

"یہ یکطرفہ قدم اس اتحاد کی روح کے خلاف ہے اور قانونی جواز سے بھی محروم ہے،” وزارت خارجہ نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ جس میں انہوں نے اس امریکی دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ترکی کی جانب سے S-400 کی خریداری سے F-35 پروگرام کمزور ہوگا۔

"حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے پر مذاکرات کے لیے نیٹو کے ساتھ ایک ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی ہماری تجویز کا جواب ہی نہیں دیا گیا جو امریکا کی جانبداری اور اس معاملے کو اچھی طرح حل نہ کرنے کا واضح اشارہ ہے۔”

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ترکی کے ساتھ تزویراتی شراکت داری الفاظ کی ہیرا پھیری سے آگے ہونی چاہیے، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر کہ جہاں ترکی داعش، PKK، YPG اور FETO جیسے گروپوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔

"ہم امریکا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کا ازالہ کرے، جو ہمارے تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گی،” وزارت نے کہا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ اب ترکی کے لیے F-35 پروگرام میں شامل رہنا ممکن نہیں، جس کی وجہ انقرہ کی جانب سے روسی S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنا ہے۔ ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ "F-35 روس کے انٹیلی جنس کلیکشن پلیٹ فارم کے ساتھ نہیں کام نہیں کر سکتا جو اس لڑاکا طیارے کی جدید صلاحیتوں کو سیکھنے کے لیے استعمال ہوگا،” بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا ترکی کو اپنی فضائی دفاع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایئر ڈیفنس حل فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔”

وائٹ ہاؤس کا بیان چھ دہائیوں سے ترکی کے ایک قابلِ بھروسہ شراکت دار اور نیٹو اتحادی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ "امریکا ترکی کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ نیٹو اتحادیوں کی حیثیت سے ہمارے تعلقات کثیر سطحی ہیں اور محض F-35 تک محدود نہیں۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا ترکی کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے گا۔

ترکی نے پانچویں جنریشن کے اس لڑاکا طیارے میں اب تک جو رقم لگائی ہے اس بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے البتہ پنٹاگون کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہم اب تک ترکی کی جانب سے خریدے گئے طیاروں کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ ترکی ممکنہ طور پر اس پروگرام میں 9 ارب ڈالرز کھوئے گا۔

امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کی تمام کوششیں ناکام ہو جانے کے بعد انقرہ نے 2017ء میں روسی کا S-400 سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد امریکا نے ترکی کو کہا کہ وہ S-400 کے بجائے اس کا بنا ہوا پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدے اور دلیل دی کہ روسی سسٹم نیٹو کے سسٹمز سے مطابقت نہیں رکھے گا اور F-35 کی خامیاں روس کے سامنے کھول دے گا۔ لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ S-400 کو نیٹو آپریبلٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا اور یہ اتحاد کے لیے خطرہ نہیں۔ اس نے واشنگٹن کے خدشات پر بارہا مذاکرات کی بھی پیشکش کی۔ اس نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز بھی دی تاکہ واشنگٹن وجائزہ لے سکے کہ S-400 نیٹو کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا البتہ امریکا نے اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

S-400 کے پرزوں کی آمد پچھلے ہفتے سے شروع ہو چکی ہے اور اب تک چھ دنوں میں 14 پروازیں مختلف آلات لے کر ترکی پہنچ چکی ہیں۔

تبصرے
Loading...