ترکی میں بے روزگاری کی شرح میں کمی

مئی 2020ء کے مقابلے میں بے روزگاری میں 0.3 فیصد کی کمی آئی ہے، ترک ادارۂ شماریات

0 254

ترکی میں مئی کے مہینے میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.6 فیصد کم ہو کر 13.2 فیصد تک گر گئی ہے۔

پیر کو ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی مہینے یعنی مئی 2020ء کے مقابلے میں بھی بے روزگاری میں 0.3 فیصد کی کمی آئی ہے۔

ترکی نے کووِڈ-19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے مئی کے ابتدائی حصے میں مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا تھا لیکن ان اقدامات میں کلیدی شعبوں کو نہیں چھیڑا گیا تھا۔ اپریل میں بے روزگاری کی شرح 13.8 فیصد پر کھڑی تھی۔

حالیہ چند ماہ میں افرادی قوت کے عدم استعمال (labor underutilization) کی شرح بھی بڑھی ہے جو گزشتہ سال مئی کی شرح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ڈیٹا کے مطابق یہ گزشتہ ماہ 27.4 فیصد سے گر کر 27.2 فیصد ہوئی ہے۔

سال 2020ء کے اوائل سے اداروں سے ملازمین کو نکالنے پر پابندی تھی، جس کی وجہ سے بے روزگاری کے سامنے بند بندھا ہوا تھا، جو اس مہینے کھول دیا گیا ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے خاتمے، اور وبا کے حوالے سے اٹھائے گئے دیگر سرکاری اقدامات کا نتیجہ بے روزگاری میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ کیونکہ ان اقدامات کی وجہ سے کاروباری ادارے مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کے لیے اپنے ملازمین کو برقرار رکھنا دشوار ہو چکا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بے روزگار افراد کی تعداد میں ماہانہ بنیادوں پر 2,65,000 کی کمی آئی ہے، جو اب 42.4 لاکھ ہو چکے ہیں۔

اسی عرصے میں روزگار پانے کی شرح 0.4 فیصد گرتے ہوئے 43.8 فیصد یا 2.78 کروڑ افراد ہو چکی ہے۔

مئی میں افرادی قوت کی شرکت کی شرح 0.8 فیصد گھٹ کر گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 50.5 فیصد ہو گئی۔

جنوری سے اعداد و شمار بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک نئے فارمیٹ میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

کُل افرادی قوت میں تقریباً 3.2 کروڑ افراد شامل ہیں، جن میں مئی 2021ء کے دوران گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 4,81,000 کی کمی آئی ہے۔

تبصرے
Loading...