ماحولیاتی اثرات، ترکی کی جھیل وان سکڑنے لگی

0 182

پہلی بار آنے والے افراد کو شاید جھیل وان کے ارد گرد زمین پر موجود دراڑیں شاید علاقے کی کوئی قدرتی خاصیت لگیں لیکن در حقیقت یہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی ملک گیر خشک سالی کی تازہ ترین علامت ہے۔

ترکی کی سب سے بڑی جھیل کے طاس کا علاقہ اور اس کے ارد گرد موجود آبی وسائل کو آج کل شدید خشک سالی کا سامنا ہے۔ کم ہوتی ہوئی بارش اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے عملِ تبخیر (evaporation) میں اضافے سے پانی میں آنے والی کمی اب بالکل واضح نظر آ رہی ہے۔ چند مقامات پر تو پانی کی سطح 3 میٹر تک گھٹ گئی ہے یعنی تقریباً 10 فٹ جبکہ تقریباً 10 مربع میٹر کا علاقہ پانی سے خالی ہو چکا ہے۔

ہزاروں سالوں تک زیرِ آب بننے والی خورد بینی اجسام اس تباہی کا نیا نشانہ ہیں۔ وہ قدیم پتھر، جنہیں جھیل کی سطح میں صرف غوطہ خور ہی دیکھ پاتے تھے، اب خشک زمین پر نظر آ رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں فوٹوگرافرز کو ان نایاب قدرتی مظاہر کو دیکھنے کا آسان موقع مل رہا ہے، وہیں جھیل کے مستقبل پر سوالیہ نشان بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

قریبی پہاڑوں سے نکلنے والے نالوں سے اپنا پانی حاصل کرنے والی اس نمکین جھیل کی خلا سے حاصل کردہ تصاویر سے تبدیلیاں صاف ظاہر ہو رہی ہیں جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب یہ خشک سالی اس جھیل کے وسیع تر طاس کے لیے سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

وان یوزنجو ییل یونیورسٹی کے شعبہ ماہی پروری کے پروفیسر مصطفیٰ آق قوش نے خبردار کیا ہے کہ جھیل وان پر خشک سالی کے اثرات مزید خطرناک روپ اختیار کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ "ہمیں جھیل وان اور دیگر جھیلوں کو محفوظ کرنے اور بچانے کے لیے مناسب آبی انتظام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ان کا مستقبل خاتمہ ہے۔ ہمیں ایک درست اور پائدار آبی پالیسی درکار ہے۔ ”

پروفیسر آق قوش نے کہا کہ جھیل وان ارد گرد کی دیگر جھیلوں کے مقابلے میں زیادہ نازک ہے۔ "ملک بھر کی تمام جھیلیں اور دریا آبی سطح میں کمی کا شکار ہیں جس کی وجہ بارشوں میں کمی ہے۔ جھیل وان ایک ایسے طاس میں واقع ہے جس کا کسی دوسرے علاقے سے کوئی تعلق نہیں اور پانی کا واحد ذریعہ بارش ہے اور یہاں سے پانی نکلنے کا واحد ذریعہ بھی عملِ تبخیر یعنی پانی کا آبی بخارات بن کر اڑنا ہے۔ حالیہ چند سالوں میں موسمِ گرما کی طوالت میں اضافہ ہوا ہے اور سردیاں مختصر ہوئی ہیں۔ اس لیے آبی بخارات بننے کا یہ عمل طویل ہو گیا ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ پانی کی آمد کے مقابلے میں اس کا اخراج تین گنا بڑھ گیا ہے۔

اس صورت حال کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے لیکن یہ واحد عنصر نہیں ہے۔ پروفیسر آق قوش نے کہا کہ "ہماری آبی پالیسی مناسب نہیں ہے۔ بلاشبہ خشک سالی کا خاتمہ مختصر مدت میں نہیں ہو سکتا لیکن ایک پائدار آبی پالیسی ہمیں کم از کم نقصان کے ساتھ اس صورت سے نکلنے میں مدد ضرور دے سکتی ہے۔

ماہرین نے خشک سالی کے سنگین اثرات کی وجہ سے آب پاشی کے غیر مؤثر طریقوں کو قرار دیا ہے جن میں پانی کا ضیاع ہوتا ہے۔ ترکی ڈرپ اریگیشن جیسے جدید طریقوں کو مقبولِ عام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آق قوش کہتے ہیں کہ آبی سطح ہر سال گھٹتی جا رہی ہے کیونکہ جھیل کے ارد گرد زرعی علاقہ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں ایسی فصلوں کی کاشت چھوڑنا ہوگی کہ جو زیادہ پانی استعمال کرتی ہیں۔ جھیل کو پانی فراہم کرنے والے ندی نالوں پر قائم کھیت کھلیان دراصل جھیل کے پانی کو گھٹا رہے ہیں۔ آبی قلت کے باوجود ایسی فصلوں کی کاشت جاری ہے جو بہت پانی استعمال کرتی ہیں اور پھر یہ استعمال بھی اس طرح ہے کہ جس میں پانی ضائع بھی بہت ہوتا ہے۔ اس لیے آب پاشی کے ایسے طریقے چھوڑنا ہوں گے کہ جن میں پانی کے استعمال پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ہمیں پانی کے ہر قطرے کو سونے جتنا قیمتی سمجھنا ہوگا اور اپنی پالیسی اسی بنیاد پر مرتب کرنا ہوگی۔”

انہوں نے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: