ترک تیر انداز نے نئی تاریخ رقم کر دی، ملک کے لیے پہلا سونے کا تمغہ جیت لیا

0 631

ترکی کے متی گازوز نے مردوں کے تیر اندازی کے مقابلے میں سونے کا تمغہ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

یہ نہ صرف ٹوکیو میں جاری اولمپکس میں ترکی کا پہلا سونے کا تمغہ ہے بلکہ تیر اندازی کے کھیل میں بھی ترکی کی تاریخ کا پہلا گولڈ میڈل ہے۔

فائنل میں متی کا مقابلہ عالمی نمبر 7 اٹلی کے ماؤرو نیس پولی سے تھا، جسے 22 سالہ متی نے ‏6-4 سے شکست دی۔

متی نے مردوں کی انفرادی تیر اندازی میں پہلے مرحلے میں لکسمبرگ کے جیف ہینکلز کو شکست دی تھی۔ دوسرے مرحلے میں آسٹریلیا کے راین ٹیاک کو ہرا کر وہ فائنل 16 تک پہنچے۔ جہاں آسٹریلیا ہی کے ٹیلر ورتھ کو ہرا کر وہ کوارٹر فائنل تک آ گئے۔ یہاں اُن کا مقابلہ ورلڈ نمبر وَن امریکا کے بریڈی ایلی سن سے تھا، جنہیں شکست دے کر متی سیمی فائنل تک آ گئے۔ اب جاپان کے مقامی ہیرو تاکاہارو فوروکاوا ان کے سامنے تھے کہ جنہیں متی نے ‏7-3 کے واضح مارجن سے ہرایا اور یوں فائنل تک پہنچ گئے۔

فائنل میں متی کا آغاز اچھا نہیں تھا۔ پہلے سیٹ میں 26 پوائنٹس ہی اسکور کر پائے جبکہ حریف نیس پولی نے 29 پوائنٹس اسکور کیے۔ بعد ازاں متی نے تیسرے سیٹ میں کامیابی حاصل کر کے مقابلہ ‏3-3 سے برابر کیا۔ اگلا سیٹ ‏29-29 سے مکمل ہوا اور مقابلہ ‏4-4 سے برابری پر کھڑا تھا۔ یعنی پانچواں سیٹ جیتنے والا اولمپک چیمپئن بن جاتا اور یہیں ہمیں شاندار مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ آخری تیر پھینک کر گازوز نے ‘پرفیکٹ 10’ حاصل کیا اور یوں اطالوی کھلاڑی کے آخری تیر پھینکنے سے پہلے ہی ان کی جیت یقینی ہو گئی۔

متی گازوز تیر اندازی کی عالمی رینکنگ میں نمبر 4 پر ہیں اور دو مرتبہ ورلڈ چیمپئن بھی بن چکے ہیں۔ اطالوی کھلاڑی نیس پولی نے چاندی جبکہ جاپان کے فوروکووا نے کانسی کا تمغا حاصل کیا۔

ترکی ٹوکیو میں جاری اولمپکس میں اب تک 2 کانسی کے تمغے بھی جیت چکا ہے اور اِس وقت کُل تین تمغوں کے ساتھ 35 ویں نمبر پر ہے۔

تبصرے
Loading...