کرونا وائرس، ترکی میں سیاحت کو بدترین حالات کا سامنا

0 287

ترکی نے 2019ء میں 45 ملین سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ سیاحت کے حوالے سے ایک زبردست سال دیکھا، لیکن اب اگلے سیاحتی سیزن میں اسے بڑے نقصان کا سامنا ہے کیونکہ کرونا وائرس کے عالمی پھیلاؤ کی وجہ سے دنیا بھر میں سفری پابندیاں عائد ہو رہی ہیں اور عوام سیاحت کے ارادے ترک کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس کی یہ عالمگیر وباء عین اُس وقت سامنے آئی ہے جب ترکی کی سیاحت بحالی کے دور میں داخل ہو رہی تھی۔ 2018ء کے کرنسی بحران کے بعد بحالی کے ایام میں ملک میں سیاحوں کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ لیکن اب عالم یہ ہے کہ ترک ہوٹلیئرز فیڈریشن (TUROFED) کے چیئرمین سرور چوراباتیر نے بتایا کہ تعطیلات کے لیے ہوٹلوں کی بکنگ میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے کیونکہ بڑے ممالک سے ترکی آنے والوں پروازوں کی تعداد بھی آدھی رہ گئی ہے۔

جنوری کے مہینے میں وزیر ثقافت و سیاحت محمد نوری ارصوی نے کہا تھا کہ موجوہ رحجان کے تحت ترکی 2020ء میں 58 ملین غیر ملکی سیاحوں کا خیر مقدم کرے گا اور سیاحتی سرگرمیوں سے 40 ارب ڈالرز سے زیادہ کمائے کرے گا، جو 2019ء میں حاصل ہونے والے 34.5 ارب ڈالرز کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔

سال کے آغاز پر حالات امید افزاء بھی لگتے تھے کیونکہ جنوری میں ترکی نے تاریخ میں سب سے زیادہ 18 لاکھ سیاحوں کا خیر مقدم کیا جو سال بہ سال میں 16.1 فیصد اضافہ تھا۔ ہوٹلوں میں بکنگ کی شرح بھی حوصلہ افزاء تھی کہ جو تقریباً 62 فیصد تک پہنچی، پچھلے سال سے 6.4 فیصد زیادہ۔ لیکن اب اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ دنیا کے بیشتر سیاحتی مقامات کی طرح ملک کو آئندہ چند مہینوں میں اس حوالے سے سست روی کا سامنا ہوگا، حالانکہ ملک میں اب تک کرونا وائرس کے صرف چھ مریض سامنے آئے ہیں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں کروناوائرس سے اموات 5,780 تک جا پہنچی ہے اور جبکہ 1,53,000 تصدیق شدہ مریض سامنے آ چکے ہیں، ادارے نے یورپ کو وائرس کا نیا گڑھ قرار دیا ہے۔

کروناوائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت کا کہنا ہے کہ اس مرض کو روکنا اولین ترجیح ہے اور وہ سیاحوں کی آمد کو محدود کرکے سرحدوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ روم کے ساحلی علاقوں میں واقع ہوٹلوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسم گرما کے لیے اپنے ہوٹل ایک ماہ کی تاخیر سے کھولیں۔ قومی پرچم بردار ترکش ایئرلائنز نے حال ہی میں کہا کہ ٹکٹوں کی منسوخی 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

چیئرمین TUROFED نے کہا کہ سیاحتی علاقوں میں ہوٹلوں کا آغاز جو اوائل اپریل سے طے شدہ تھا، اب اپریل کے اختتام تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاخیر صنعت پر بھاری مالی بوجھ ڈالے گی۔ جبکہ ارصوی نے کہا کہ ان کی وزارت شعبہ سیاحت کے نمائندگان کے ساتھ ملاقاتیں کر رہی ہے اور جلد ہی شعبے کے لیے مالی مدد کا اعلان کیا جائے گا۔

ترکی چین، ایران، عراق، اٹلی، جنوبی کوریا، جرمنی، فرانس، اسپین، ناروے، ڈنمارک، بیلجیئم، آسٹریا، سوئیڈن اور نیدرلینڈز سے آنے والی پروازیں بند کر چکا ہے۔ ان میں سے چند ممالک جیسا کہ ایران، چین اور جرمنی سے سیاحوں کی بڑی تعداد ترکی آتی ہے۔

سیاحت کا شعبہ ترکی کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ 2015ء میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے روسی لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی بحران سے روسی سیاحوں کی آمد میں بڑی کمی آئی۔ 2016ء میں 15 جولائی کی ناکام بغاوت اور داعش اور PKK کے دہشت گرد حملوں سے ترکی کی سیاحت کو نقصان پہنچا اور اس سال سیاحوں کی تعددا 25.2 ملین سے گر کر 11 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن 2018ء میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا کی قیمت میں کمی کی وجہ سے ایک سستے سیاحتی مقام کی حیثیت سے ترکی کی کشش میں اضافہ ہوا۔ لیکن فی سیاح آمدنی میں کمی بھی آئی۔ 2017ء میں 38.6 ملین سیاحوں کی آمد پر ملک کی کُل سیاحتی آمدنی 26.2 ارب ڈالرز تھی۔ 2018ء میں آنے والے سیاحوں کی تعداد بڑھتے ہوئے 45.6 ملین تک تو جا پہنچی، لیکن کُل آمدنی میں صرف 3 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا۔

تبصرے
Loading...