ترکی کا بحری جہاز عروج رئیس نئی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مشرقی بحیرہ روم میں موجود

0 2,565

ترکی کے وزیر برائے توانائی و قدرتی وسائل فاتح دونمیز نے کہا ہے کہ ترکی کا seismic vessel بحری جہاز عروج رئیس سیسمک ریسرچ کی سرگرمیاں کرنے کے لیے اپنی نئی منزل مشرقی بحیرہ روم میں پہنچ گیا ہے۔

دونمیز نے ٹوئٹر پر لکھا کہ "ہمارا MTA عروج رئیس سیسمک ریسرچ بحری جہاز انطالیہ سے نکلنے کے بعد اپنے نئے مشن کے لیے مشرقی بحیرہ روم میں پہنچ چکا ہے۔ 83 ملین ترک تمہاری حمایت کرتے ہیں عروج رئیس!”

تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کی سرگرمیوں کے طور پر ترکی نے 10 اگست 2020 سے NAVTEX یعنی نیوی گیشن ٹیلیکس کے ذریعے مشرقی بحیرہ روم میں نئی سیسمک ریسرچ سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عروج رئیس مشرقی بحیرہ روم میں 23 اگست تک بحری جہازوں چنگیز خان اور اتامان کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔

یہ سیسمک بحری جہاز ترک انجینیئرز نے استنبول میں مقامی شپ یارڈ پر تیار کیا تھا۔

30 سال کی عمر رکھنے والا یہ بحری جہاز بغیر رکے 35 دن تک سفر کر سکتا ہے۔

یہ بحری جہاز ایک ہیلی کاپٹر پیڈ، ہائیڈروگرافی اور اوشنوگرافی کے فیچرز رکھتا ہے اور 15,000 میٹر کی گہرائی تک سمندروں کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترکی نے مشرقی بحیرہ روم میں یکطرفہ ڈرلنگ کرنے کے یونانی قبرص کے اقدامات کا مقابلہ کیا ہے اور زور دے رہا ہے کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص بھی اس علاقے کے وسائل پر اتنا ہی حق رکھتا ہے۔

1974 میں یونان کی جانب سے قبرص پر قبضہ کرنے کے لیے بغاوت کی کوششوں کے بعد انقرہ کو ضامن طاقت کی حیثیت سے جزیرے پر مداخلت کرنا پڑی اور 1983ء میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا قیام عمل میں آیا۔

اس کے بعد سے کئی دہائیوں تک قبرص کا مسئلہ حل کرنے کی کوششیں ناکام ہوتی رہیں۔ حال ہی میں ضامن ممالک ترکی، یونان اور برطانیہ کے 2017ء میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔

تبصرے
Loading...