ترکی کی آبادی 8.3 کروڑ سے تجاوز کر گئی

0 373

ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) کے مطابق سال 2019ء کے اختتام تک ترکی کی آبادی سالانہ 1.39 فیصد کے اضافے کے ساتھ 8 کروڑ 31 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ترکی کی آبادی میں پچھلے سال میں ساڑھے 11 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ معمولی سا اضافہ ان خدشات سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے کہ جو اگلی دہائی میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے سے درپیش ہوں گے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ترکی کی آبادی میں مردوں کی تعداد 4,17,21,136 اور خواتین کی آبادی 4,14,33,861 ہے یعنی کُل آبادی میں مردوں کا تناسب 50.2 فیصد اور خواتین کا 49.8 فیصد ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018ء میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 1.47 فیصد رہی۔ 2007ء میں 15 سے 64 سال تک کی عمر رکھنے والوں کا تناسب 66.5 فیصد تھا جو 2019ء میں بڑھتے ہوئے 67.8 فیصد ہو چکا ہے۔

اسی طرح 14 سال کی عمر تک کے بچوں کی تعداد 26.4 فیصد سے گھٹتے ہوئے 23.1 فیصد ہو چکی ہے۔ 65 سال یا اس سے زیادہ کی عمر کے حامل افراد کی شرح 7.1 فیصد سے بڑھتے ہوئے 9.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

2019ء کے اختتام تک ملک کی آبادی کی درمیانی عمر 32.4 سال تھی، جو 2018ء کی عمر 32 سال سے زیادہ ہے۔

استنبول کی آبادی بدستور بڑھتی ہوئی

ترکی کی 92.8 فیصد آبادی شہروں اور ضلعی مراکز میں رہتی ہے، جس میں سالانہ 0.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ 7.2 فیصد آبادی قصبوں اور دیہات میں مقیم ہے۔ ترکی میں آبادی کی کثافت – یعنی فی مربع کلومیٹرز آبادی کی شرح – میں سالانہ 2 فیصد اضافہ ہوا ہے جو پچھلے سال 107 فی مربع کلومیٹر تک جا پہنچی۔

ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول کی آبادی میں 2019ء میں 4,51,543 کا اضافہ ہوا جو اب 1 کروڑ 55 لاکھ ہو گئی ہے۔ ترکی کی کُل آبادی کا 18.66 فیصد اس شہر میں بستا ہے۔ ملک میں فی مربع کلومیٹر 08 افراد بستے ہیں جبکہ استنبول میں یہ تعداد 2,987 ہے۔

اس کے بعد دارالحکومت انقرہ آتا ہے کہ جہاں 56 لاکھ 40 ہزار افراد مقیم ہیں جبکہ بحیرۂ ایجیئن کے کنارے واقع ازمیر میں 43 لاکھ 70 ہزار افراد رہتے ہیں۔ اہم صنعتی شہر بورصہ ترکی کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے کہ جہاں ساڑھے 30 لاکھ لوگ بستے ہیں جبکہ بحیرۂ روم کے کنارے واقع سیاحتی شہر انطالیہ کی آبادی 25 لاکھ ہے اور وہ پانچویں نمبر پر ہے۔

گو کہ ترکی میں نوجوان آبادی کی شرح بدستور برقرار ہے لیکن بزرگ شہریوں کی تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ رحجان محض ترکی میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ دنیا کے بیشتر علاقوں، بالخصوص ترقی یافتہ ممالک، کو بزرگ آبادی میں اضافے کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی بچوں کی پیدائش میں اضافے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

تبصرے
Loading...