ترکی کی آبادی 2040ء تک 100 ملین ہو جائے گی

0 438

ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) کے اندازوں کے مطابق ترکی کی آبادی میں 20 سال کے عرصے میں لگ بھگ 17 ملین کا اضافہ ہوگا جس کے ساتھ ہی یہ 100 ملین کا ہندسہ عبور کر جائے گی۔

TurkStat کی جانب سے جمع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق ترکی کی آبادی پچھلے سال 8 کروڑ 18 لاکھ 67 ہزار 223 تھی جو رواں سال بڑھ کر 8 کروڑ 28 لاکھ 86 ہزار 421 ہو جائے گی اور 2040ء تک کہ 9 کروڑ 97 لاکھ 54 ہزار 923 ہو جائے گی۔ اس وقت یورپی یونین کے 20 اراکین کی آبادی 17 ملین سے کم ہے۔

اندازہ ہے کہ ترکی کی آبادی 2040ء تک 10 کروڑ 3 لاکھ 31 ہزار 233 ہو جائے گی ، جن میں سے 50.62 ملین مرد اور 50.27 ملین خواتین ہوں گی۔ ملک کی آبادی 2060ء میں 107.95 ملین اور 2080ء میں 107.1 ملین ہوگی۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے 11 جولائی کو آبادی کا عالمی دن قرار دیا ہے کیونکہ 11 جولائی 1987ء کو دنیا کی آبادی 5 ارب تک پہنچی تھی۔ اس سال آبادی کے عالمی دن کا موضوع ہے "تولیدی صحت، خواتین کو بااختیار بنانا اور صنفی برابری ترقی کے راستے”۔

اولاد کی شرح میں کمی

15 سے 49 سال کی عمر کی خواتین کے اوسط بچوں کی تعداد گزشتہ سال ترکی میں 1.99 تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ شرح بدستور 2.10 سے کم ہے جو آبادی بڑھنے کی سطح ہے۔ امکان ہے کہ یہ کمی مستقبل میں بھی جاری رہے گی اور 2050ء تک 1.85 ہو جائے گی۔

ترکی میں بچوں کو جنم دینے والی خواتین کی اوسط عمر پچھلے سال 28.9 سال تھی۔ 1950ء سے 2020ء تک کے اندازوں کے مطابق پیدائش کے وقت ماں کی اوسط عمر 1965ء سے 1970ء کے عرصے میں 29 سال تھی جو 2015ء سے 2020ء کے دوران 28.1 سال ہوگی۔ 2017ء میں پیدائش کے وقت متوقع عمر 78 سال تھی اور امید ہے کہ یہ تعداد 2025ء تک بڑھ کر 79.6 سال ہو جائے گی۔ اوسط متوقع عمر مردوں کے لیے 75.3 سال سے بڑھ کر 77 اور عورتوں کے لیے 80.7 سے 82.2 سال ہو جائے گی۔

بھارت سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی 2 ہزار سال قبل 300 ملین تھی اور گزشتہ سال 7.7 ارب، جو 2050ء تک 9.7 ارب اور اس صدی کے اختتام تک 11 ارب تک پہنچ جائے گی۔

یہ رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ نو ممالک، بشمول بھارت، نائیجیریا، پاکستان، مصر اور امریکا، عالمی آبادی میں متوقع اضافے میں پیش پیش ہیں۔ چین کی آبادی، جو آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک ہے، میں 2050ء تک 2.2 فیصد کمی متوقع ہے۔

رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بالآخر بھارت چین کو آبادی میں پیچھے چھوڑ دے گا۔ دونوں ممالک اس وقت عالمی آبادی کا 35 فیصد ہیں۔ 1.43 ارب لوگ چین میں بستے ہیں اور بھارت کی آبادی 1.37 ارب ہے۔

رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ سب صحارن افریقہ کی آبادی 2050ء تک دو گنی ہو جائے گی۔ بچے پیدا کرنے کی شرح میں دنیا بھر میں کمی متوقع ہے۔ فی عورت بچوں کی تعداد جو پچھلے سال تک کم ہوتے ہوتے 2.5 ہو گئی تھی، 2050ء میں 2.2 متوقع ہے۔ اوسط متوقع عمر جو اب بھی 72.6 سال ہے،2050ء تک بڑھتے بڑھتے 77.1 سال ہو جائے گی۔

تبصرے
Loading...