ترکی کا فعال علاقائی کردار اور متحدہ عرب امارات کی گھبراہٹ ৷ برہان الدین دُوران

0 7,347

لیبیا اور مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے حالیہ اقدامات نے غیر ملکی دارالحکومتوں میں اس ملک بارے بین الاقوامی موقف پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ جیسے ہی 2020ء میں ہونے والے انتخابات کی تاخیر بارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کال پر امریکیوں نے زور دے دیا تو، یورپی میڈیا نے اپنا رخ ترکی کی طرف موڑتے ہوئے آیا صوفیا کی بطور مسجد بحالی کو موضوع بنانا شروع کر دیا۔ ایک طرف، انہوں نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ "سلطان” رجب طیب ایردوان کو جواب دیں ، جن پر انہوں نے نیو عثمانیت کی توسیع پسندی کا الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی، یورپی رپورٹرز نے اس بات کی تعریف کی کہ ایردوان اس پاور ویکیوم کو پُر کررہا ہے جسے امریکہ نے خالی چھوڑ دیا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ترک صدر، ایک تجربہ کار لیڈر کی حیثیت سے، وہ کام بھی کرتے ہیں جو ان کے یورپی ہم منصب کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اپنے ملک کو ایک نئی سطح کے اہم کردار تک لے جاتے ہیں۔

چونکہ امریکہ نے اپنے عالمی کردار پر نظرثانی کی ہے، یورپ موءثر قیادت کی شدید قلت کا شکار ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی کارکردگی سے لوگ واضح طور پر مایوس ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جرمنی میں چانسلر انگیلا مرکل جو کمی چھوڑیں گی اسے کون پورا کرے گا۔ ان صورتحال میں، روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ترک صدر، خطے کی سیاست پر بہت زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ یوروپی ہچکچاہٹ کے باوجود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا یورپی یونین بلاک، ترکی کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہے۔ وہ یہ بھی واضع دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح فرانس اور یونان اپنے تنگ قومی مفادات کی خاطر یوروپی یونین میں ترکی پر پابندیاں لگوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترکی کا یہ نیا مقام جسے 15 جولائی، 2016 کی ناکام بغاوت کی کوشش سے بھی کھوٹا نہیں کیا جا سکا تھا، اب درحقیقت باہر والوں کے پیٹ میں مشکل سے ہضم ہو پا رہا ہے۔ شام، عراق، لیبیا اور مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے فیصلہ کن کردار اور فعال اقدامات کی وجہ سے، اب وہ کھیل کے پرانے اصول اب انقرہ پر مسلط نہیں کرسکتے ہیں۔ مشرقی بحیرہ روم میں اپنی بحریہ اور کھدائی کرنے والے جہازوں کے ساتھ ترکی خودمختاری کے ساتھ گھوم رہا ہے وہ ایسا ملک نہیں رہا ہے جو باہر رہ کر شکایات کر رہا ہو۔ اس کے بالکل برعکس، یہ موجودہ حالات میں طاقت کی جدوجہد کا مرکز ہے۔ اسی طرح، ترکی، لیبیا میں اپنی فوجی موجودگی کے ساتھ، یوروپ اور شمالی افریقہ کے مستقبل کے بارے میں زمینی طور پر اور سفارتی مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بہت ضروری ہے کہ ان نئی حقیقتوں کو پوری طرح سے ڈیفائن کیا جائے اور عظیم ترکی کے مفادات کے مطابق طاقت کا ایک نیا توازن ابھرے۔ طاقت کی اس از سر نو تقسیم کو منصفانہ ہونا چاہئے، جو بین الاقوامی قوانین اور مقامی لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہو۔ مشرقی بحیرہ روم میں توانائی کے مذاکرات سے بحیرہ روم میں سب سے طویل ساحلی پٹی رکھنے والے ایک ملک ترکی کو الگ کرنے کا خیال، محض ایک خالی خواب و خیال ہی ہے۔

ترکی کے خلاف جاری نظریاتی الزام تراشی کی بدبودار مہم انقرہ کی حوصلہ شکنی نہیں کر سکے گی۔ ایردوان نے ترکی کو طاقت کا جو نیا احساس اور مقام دلانے کے لئے جو کچھ بھی کیا ہے اب وہ وہ انقرہ کی پالیسی کا سنگ بنیاد بن چکا ہے، جو اس ملک کی سیاسی طاقت تبدیل کرنے کے باوجود بھی نہیں بدل سکے گا۔ ترک حزب اختلاف کے وہ افراد، جو آج کل لاپرواہی سے ترکی کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہیں، کل اقتدار میں آ گئے تو وہ خود قومی مفاد کے ان اقدامات کو سراہیں گے، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں، اگر مگر کے ساتھ وہ انہیں جاری رکھنے پر مجبور رہیں گے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ان ممالک میں شامل ہے جو ترکی کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ پر قابو پانے کے لئے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ ابو ظہبی نے مصر کو لیبیا کی خانہ جنگی میں دھکیلنے کے لیے ترکی مخالف مہم بھی چلائی۔ مصر کے غاصب صدر عبد الفتح السیسی کی حوصلہ افزائی کی کوشش میں پان عرب قوم پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ نام نہاد ترک حملہ، نوآبادیات اور "عرب امور میں ترکی کی دخل اندازی” یہ سارے موضوع اسی مہم کا ایک حصہ ہیں۔

الوطیہ ایئر بیس پر حالیہ حملے کے نتیجے میں، ترکی نے متحدہ عرب امارات کی تباہ کن کوششوں کو سنجیدہ لینا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں، ترکی کے وزیر دفاع حولوصی آکار نے وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو کی ابتدائی تنقید کو اگلی مرحلے میں داخل کرتے ہوئے کہا کہ: "ہم انھیں مناسب وقت اور صحیح جگہ پر جواب دیں گے۔” اس بیان کے الفاظ یہ اشارہ کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کی مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جارحانہ کاروائیاں ترکی کے لئے ناقابل برداشت ہوچکی ہیں۔ ابوظہبی نے مغربی لابی کو جس قدر پیسہ ڈالا ہے وہ اس کے یمن، شام اور لیبیا میں اس کی گھناؤنے کردار اور عدم استحکام کو بڑھانے کی پالیسی کو چھپا نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے قطر کی ناکہ بندی کے ذریعہ عربوں کے مابین کھینچ ڈال دی۔ مراکش ، موریطانیہ اور تیونس میں انجینئرنگ کرنے کی کوشش کی۔ اسے آخر کب تک چھپایا جا سکے گا۔

متحدہ عرب امارات کی تباہ کن جارحیت کے سامنے مغرب کی خاموشی بھی ایک بہت بڑی منافقت ہے۔ شاید ممکنہ طور پر یہ دکھاوا، محمد بن زید کی درمیانی حیثیت سے زیادہ کچھ نہ بننے کی صلاحیت کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

درحقیقت، عرب عوام رجب طیب ایردوان کے پُرخلوص کردار اور ولی عہد شہزادوں کے عزائم میں فرق کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

تبصرے
Loading...