عالمی سیاست میں طاقت کا نیا توازن اور ترکی کا کردار

احسان آقتاش

0 1,670

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بظاہر ایک یَک قطبی عالمی نظام اُبھرا۔ امریکا نے دنیا کے تنہا قائد اور واحد تھانیدار کا عالمی کردار حاصل کیا اور اس کا نام نہاد ‘نیو ورلڈ آرڈر’ ان غیر منصفانہ اور غیر قانونی واقعات کے ساتھ تکمیل کو پہنچا کہ جو سرد جنگ کے دوران نہیں دیکھے گئے تھے۔

کوئی جواز تراشنے کی زحمت کیے بغیر امریکا نے افغانستان اور عراق پر بلا خوف و خطر قبضے کیے۔ یہ دونوں ممالک 20 سال تک سیاسی افراتفری کا شکار رہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ گو کہ امریکا اب بھی بین الاقوامی اکھاڑے میں تباہی کی بھرپور طاقت رکھتا ہے، لیکن وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کا بیشتر حصہ کھو چکا ہے۔

نیو ورلڈ آرڈر عرب بہار کے آغاز تک قائم رہا۔ شامی بحران کے اُبھرنے تک امریکی و یورپی اتحادی بالادست رہے۔ البتہ شامی خانہ جنگی میں اوباما انتظامیہ کی عجلت اور ہچکچاہٹ نے روس کے ہاتھ مضبوط کردیے۔

روس نے اپنے حریف امریکا کے خلاف علاقائی غلبہ حاصل کرنے کے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور نہ صرف شام بلکہ بحیرۂ قزوین سے بحیرۂ روم تک پورے خطے میں ایک غالب طاقت بن گیا، یوں یَک قطبی ورلڈ آرڈر کا خاتمہ کردیا۔

شام کے بحران نے طاقت کے بین الاقوامی توازن کے علاوہ نہ صرف روس بلکہ ترکی کے ساتھ امریکا کے دو طرفہ تعلقات کا توازن بھی بدل دیا۔ شام کے سیاسی نظام کو جمہوری بنانے کے ہدف کے ساتھ امریکا اور ترکی شامی خانہ جنگی کے ابتدائی مرحلے میں اتحادی تھے۔

باوجود اس کے کہ اوباما انتظامیہ ایران کو ورلڈ آرڈر میں شامل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی لیکن اس نے خطے میں ترکی کے مفادات کو سرے سے نظر انداز کیا۔ پھر مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی پر دو اہم دلائل غالب آ گئے: ایک اگر شامی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو القاعدہ شام پر حاکم بن جائے گی؛ اور اگر شام جمہوری انتخابات کرواتا ہے تو مصر کی طرح یہاں بھی اخوان المسلمون جیت جائیں گے۔

دریں اثناء، امریکا نے شامی خانہ جنگی میں دو نئے اتحاد تشکیل دیے۔ ایک طرف داعش القاعدہ کے جانشیں کی حیثیت سے اُبھری۔ دراصل اپنی صدارتی مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ اس ظالم اور خونخوار دہشت گرد تنظیم کی نگرانی کرتی رہی۔

داعش نے شام میں امریکی مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا؛ اس کے برعکس وہ فرانس اور جرمنی کو زیر کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔ داعش کے تمام مقبوضہ علاقے بالآخر PKK کے کنٹرول کے لیے چھوڑ دیے گئے، جو شام میں امریکا کی کھلے عام حلیف بن گئی۔

شامی بحران میں پیٹھ پر چھرا گھونپے جانے کا احساس ہونے کے بعد ترکی نے امریکا کے ساتھ اتحاد کا فوراً خاتمہ کردیا۔ ترکی کی جانب سے ایک آزاد خارجہ پالیسی اپنانے کے بعد تینوں دہشت گرد تنظیموں نے ترکی میں حملے کیے، یعنی PKK، داعش اور گولن دہشت گرد گروپ (FETO) نے۔

خوش قسمتی سے ترکی تمام دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ درحقیقت ترکی ہی وہ پہلا ملک تھا جس نے شام میں داعش کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور یہ ثابت کیا کہ اُن کا خاتمہ ممکن ہے۔ PKK پہلے ترکی میں اور پھر عفرین میں کچل دی گئی۔ بالآخر 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے ساتھ ترکی سے FETO کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

شام کی طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ترکی نے روس اور ایران کے ساتھ بلاواسطہ اور شامی حکومت کے ساتھ بالواسطہ طور پر آستانہ امن عمل کی شروعات کی۔

اس متحرک خارجہ پالیسی نے بین الاقوامی بحرانوں کے حل میں مغربی طاقتوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کردیا۔ اس ضمن میں ترکی نے سرد جنگ کے بعد کے یَک قطبی "نیو ورلڈ آرڈر” کے خاتمے میں متحرک کردار ادا کیا۔

ترکی کے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے لیے روس کے ساتھ معاہدے اور PKK/جمہور خلق پارٹی (PYD) کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے شمالی شام میں فوجی مداخلت اور بالآخر دریائے فرات کا مشرقی علاقہ خالی کرانے کی دھمکی نے امریکا کو مجبور کیا کہ وہ شامی ڈیڈلاک کے حل کے لیے ترکی کی پوزیشن کے قریب آئے۔ اب جبکہ علاقائی طاقت کی حیثیت سے ترکی کے کردار کو تقویت مل چکی ہے، ہم نے اپنے نیٹو اتحادی امریکا کے روبرو نہ آنے کا ہدف بھی حاصل کیا۔

ترکی بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے نئے توازن کے محور پر واقع ہے۔ ترکی کی طاقت اور اس کی محدودیت سے اچھی طرح آگاہ رہتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان عالمی رہنما کی حیثیت سے ابھرے ہیں جو کثیر قطبی نیو ورلڈ آرڈر کی حدوں کا امتحان لیتے ہیں۔

تبصرے
Loading...