سال 2019ء کی دوسری سہ ماہی میں ترکی کی سیاحت سے آمدنی میں 13.2 فیصد اضافہ

پہلی شش ماہی میں غیر ملکی مہمانوں کی تعداد 18 ملین تک جا پہنچی

0 297

غیر ملکی مہمانوں کی تعداد اور آمدنی دونوں کے لحاظ سے ترکی کے لیے اِس بار سیاحتی سیزن زبردست رہا ہے۔ وزارت ثقافت و سیاحت کے مطابق جنوری سے جون کے عرصے میں غیر ملکی مہمانوں کی تعداد میں سالانہ بنیادوں پر 13.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ ملک کے شماریاتی ادارے کے مطابق اسی عرصے میں سیاحت سے آمدنی میں تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وزارت کے مطابق جنوری سے جون کے دوران ملک میں 18 ملین سے زیادہ غیر ملکی مہمان آئے۔ اگر ترک شہریوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 21.15 ملین تک جا پہنچتی ہے، جو سال بہ سال میں 11.81 فیصد اضافہ ہے۔

ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے 3 ملین سے زیادہ ترک شہری اس سال کی پہلی شش ماہی میں ترکی آئے، جو 2018ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.27 فیصد اضافہ ہے۔

استنبول کا تاریخی شہر ترکی میں سیاحوں کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز رہا کہ جہاں 37.5 فیصد یعنی 6.8 ملین مہمان آئے۔ بحیرۂ روم کے کنارے واقع انطالیہ 29.56 فیصد یعنی 5.34 ملین غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ اس شش ماہی میں دوسرے نمبر پر رہا۔

شمال مغربی ترکی کا شہر ادرنہ، جو بلغاریہ اور یونان کی سرحد کے قریب ہے، پہلی شش ماہی میں 1.8 ملین غیر ملکی مہمانوں کی توجہ کا مرکز رہا اور یوں تیسرے نمبر پر آیا۔

تقریباً 15 فیصد یا 2.7 ملین مہمانوں کے ساتھ روس پہلے نمبر پر آیا کہ جس کے شہریوں کی تعداد میں اس بار 13.9 فیصد اضافہ ہوا۔ ان کے بعد 10 فیصد (1.8 ملین مہمانوں) کے ساتھ جرمنی رہا جس کے باشندوں کی تعداد میں 15.5 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے 6.8 فیصد (1.2 ملین) رہے ، جو 2018ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25.14 فیصد اضافہ ہے۔

جون میں ملک نے 5.3 ملین غیر ملکی باشندوں کا خیر مقدم کیا، جو سال بہ سال میں 18.05 فیصد اضافہ ہے۔ روسی لگ بھگ ایک ملین کے ساتھ سب سے زیادہ جبکہ جرمن 5,88,508 اور برطانوی 3,59,462 کے ساتھ ان کے پیچھے رہے۔

گزشتہ سال ملک میں 39.5 ملین غیر ملکی داخل ہوئے تھے جو 2017ء میں 32.4 ملین تھے۔

سیاحت سے آمدنی میں تقریباً 10 فیصد اضافہ

TurkStat کے مطابق دوسری جانب رواں سال جنوری سے جون کے عرصے میں ترکی کی سیاحت سے ہونے والی آمدنی 12.6 ارب ڈالرز تک پہنچی۔

ہر سہ ماہی میں جاری کردہ ان اعداد و شمار کے مطابق ترکی کی سیاحتی آمدنی سال کی دوسری سہ ماہی میں تقریباً 8 ارب ڈالرز تک پہنچی، جو گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 13.2 فیصد زیادہ ہے۔

جنوری سے جون کے عرصے میں ترکی آنے والوں کے اوسط اخراجات 649 ڈالرز فی کس رہے۔

پہلی شش ماہی میں ترکی میں ہوٹل سکونت میں اضافہ

دوسری جانب ترکی بھر میں ہوٹل سکونت سال بہ سال میں 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ رواں سال کی پہلی شش ماہی میں 63.8 فیصد تک پہنچی۔

ترک ہوٹل ایسوسی ایشن (TÜROB) کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کمروں کے اوسط روزانہ کرائے 7.7 فیصد اضافے کے ساتھ 69.8 یوروز (77.8 ڈالرز) تک پہنچے۔

جنوری سے جون تک ترکی بھر میں آمدنی فی دستیاب کمرہ 44.5 یوروز رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 8.9 فیصد زیادہ ہے۔

"اعداد و شمار میں اضافے کے باوجود ترکی یورپی اوسط سے پیچھے رہا،” ایسوسی ایشن نے کہا۔ رپورٹ کے مطابق یورپ میں ہوٹل سکونت کی شرح 69.7 فیصد تھی، کمروں کا اوسط روزانہ کرایہ 110.6 یوروز اور اوسط آمدنی فی دستیاب کمرہ 77.1 یوروز تھی۔ بتایا گیا کہ آئرلینڈ نے پہلی شش ماہی میں 76.1 فیصد کے ساتھ یورپ میں ہوٹل سکونت کی سب سے زیادہ شرح پائی جبکہ سوئیڈن 199 یوروز کے ساتھ کمروں کے اوسط روزانہ کرائے میں سب سے آگے رہا۔

تبصرے
Loading...