بحیرۂ روم میں کشیدگی، ترک اور یونانی فضائیہ میں مڈبھیڑ

0 271

ترکی اور یونان کے ایف-16 طیاروں کے مابین بحیرۂ روم میں مڈبھیڑ ہوئی ہے۔

ترک وزارتِ دفاع کے مطابق یونانی لڑاکا طیارے جزیرہ کریٹ سے پرواز کرتے ہوئے اس علاقے میں داخل ہو رہے تھے جس کے لیے ترکی نے Navtex کا اعلان کر رکھا ہے۔

‏Navtex یا Navigational Telex ایک بحری کمیونی کیشنز سسٹم ہے جو بحری جہازوں کو علاقے میں اپنی موجودگی کی اطلاع اور دوسری معلومات دیگر جہازوں تک پہنچاتا ہے۔

27 اگست کو ترک فضائیہ کے ریڈار سسٹمز نے چھ ایف-16 طیاروں کو دیکھا جو یونان کے جزیرہ کریٹ سے اڑے اور جنوبی قبرص جا رہے تھے۔

ترک ایف-16 طیاروں نے انہیں جزیرہ قبرص کے جنوب مغرب میں اس علاقے میں داخل ہونے سے روکا کہ جس کے لیے ترکی نے Navtex الرٹ جاری کر رکھا ہے اور انہیں علاقے سے نکال دیا۔

ترک بحریہ اور فضائیہ مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔

ترکی نے جمعرات کو ایک Navtex الرٹ جاری کیا تھا جس کے مطابق تیل و گیس تلاش کرنے والے بحری جہاز ‘عروج رئیس’ کی سرگرمیوں میں مزید چار دن کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔

ترکی نے یونان اور مصر کے مابین بحری حد بندی کے معاہدے پر متنازع دستخط کے بعد رواں مہینے ایک بار پھر مشرقی بحیرۂ روم میں اپنی تیل و گیس تلاش شروع کر دی ہے۔

یونان اور دوسرے ملک ترکی کی بحری حدود کو کم کرنے اور تیل و گیس کی تلاش کے حقوق کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ بحیرۂ روم میں کسی ملک کی ساحلی پٹی ترکی جتنی طویل نہیں ہے۔

ترکی یونان کی جانب سے ایک بڑے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کا اعلان کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتا آیا ہے، جو کہ ترک مفادات کی خلاف ورزی ہے۔

انقرہ نے یہ بھی کہا کہ قبرص کے جزیرے کے قریب موجود توانائی کے ذخائر کی ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور یونانی قبرص کے مابین منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے – جس نے ترک سرکاری آئل کمپنی ترکش پٹرولیم کو لائسنس دے رکھا ہے۔

تبصرے
Loading...