ترکی ساختہ جنگی بحری جہاز پاکستان کے ساحل اور تجارت کا دفاع کریں گے

0 3,106

حال ہی میں پاکستان بحریہ کے لیے دو جنگی بحری جہازوں (corvettes) کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے جو ترکی کے نیشنل شپ (MILGEM) پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔

بحریہ نہ صرف سمندری حدود کا دفاع کرتی ہے بلکہ بحری، ساحلی اور فضائی دفاع میں بھی بہت اہم کردار رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان اپنے تحفظ و سالمیت کے لیے بحریہ کی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے، اور ملک کی معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھنے والے سمندری راستوں کو محفوظ بنا رہا ہے۔

پاکستان کو چار Ada-کلاس بحری جہازوں کی فروخت حالیہ چند سالوں میں دفاعی مصنوعات برآمد کرنے کے سلسلے میں ترکی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ بحری جہاز بین الاقوامی منظرنامے پر پاکستان کو زبردست قوت عطا کریں گے۔

روزنامہ صباح کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بحری دفاع اور سکیورٹی کے مشیر کیپٹن الپ کریک کنات نے کہا کہ یہ دو جنگی جہاز پاک بحریہ کو موقع دیں گے کہ وہ تزویراتی اور معاشی لحاظ سے اہم کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کی حفاظت کریں جو ملک کی کُل مقامی پیداوار (GDP) میں اہم حصہ رکھتی ہیں اور ساتھ ہی بحر و بر اور فضاء میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں بھی مدد دیں گے۔

پاکستان ترجیح ہے کہ ان بحری جہازوں کو استعمال کرتے ہوئے بندرگاہوں کی جانب آنے والے راستوں کی حفاظت کی جائے کیونکہ پاکستان ان بندرگاہوں کی اہمیت کے پیش نظر متعدد بین الاقوامی منصوبوں میں شامل ہے۔

پاکستان کی جانب سے دسمبر 2016ء میں ایک خصوصی نیول ٹاسک فورس، ٹاسک فورس-88 (TF-88) تک بنائی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹاسک فورس گوادر بندرگاہ کی حفاظت کے لیے چین کی سرمائے سے بنی ہے تاکہ متعلقہ بحری راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ یہ ٹاسک فورس اور جس بندرگاہ کی یہ حفاظت کرتی ہے، دونوں چین کے عزائم اور اہداف میں تعاون کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ جبوتی کے بعد گوادر کی بندرگاہ بیجنگ کے اگلے سمندر پار بحری اڈے کے طور پر نمایاں ہوئی ہے۔

گوادر کی بندرگاہ کو چلانے کے حقوق ہانگ کانگ میں قائم چین کی سرکاری چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی رکھتی ہے۔ یہ بندرگاہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے 62 ارب ڈالرز کے منصوبے کا حصہ ہوگا۔ CPEC میں مرکزی کردار رکھنے والی گوادر بندرگاہ بین الاقوامی بحری اور تیل کی تجارت کے راستوں کے سنگم پر واقع ہے اور وسطی اور جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو ملاتی ہے۔ درحقیقت یہ بندرگاہ براہ راست بحرِ ہند میں کھلتی ہے اور اس کی معاشی و تزویراتی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اندازہ ہے کہ 1,00,000 سے زیادہ بحری جہاز سالانہ بحرِ ہند سے گزرتے ہیں اور سمندر کے ذریعے دنیا کے دو تہائی تیل کی فراہمی بھی اسی سمندر سے ہوتی ہے۔

کریک کنات نے کہا کہ ان بحری جہازوں کی معلوم خصوصیات کے ساتھ ساتھ کم، درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایئر ڈیفنس سسٹم کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے جو بحری افواج کو ممکنہ فضائی خطرے سے نمٹنے کے لیے ایئر ڈیفنس مشن کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

ہیلی کاپٹرز رکھنے والے Ada کلاس بحری جہاز آبدوز شکن صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان میں گن اور گائیڈڈ میزائل لگا کر کلوز-اِن ویپن سسٹم (CIWS) اور سطح پر جنگ کی مؤثر صلاحیتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ جنگی بحری جہاز اپنے مؤثر اور لچکدار پاور ٹرانسمیشن سسٹم کے ساتھ زیادہ رفتار بھی پکڑ سکتے ہیں۔

ان بحری جہازوں کی لمبائی 99 میٹر اور چوڑائی زیادہ سے زیادہ 14 میٹر ہے اور یہ 2,400 ٹن کی displacement رکھتے ہیں۔

ترکی کے سب سے بڑے دفاعی ایکسپورٹ معاہدے کے تحت دو بحری جہاز استنبول نیول شپ یارڈ کمانڈ میں اور باقی دو کراچی میں تیار ہوں گے، کیونکہ معاہدے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔

ویسے تو یہ ترک بحریہ کی Ada-کلاس بحری جہازوں کی طرز پر تیار کیے جا رہے ہیں لیکن پاک بحریہ کے بحری جہاز ملکی ضرورت کے مطابق کچھ تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اسٹیل کٹنگ کی تقریب کے بعد جو تصویر آن لائن پیش کی گئی ہے اس میں جہاز کے عرشے پر ایک کسٹم ڈیزائن 16-سیل ورٹیکل لانچنگ سسٹم (VLS) دیکھا جا سکتا ہے۔ VLS ترکی کے کسی Ada-کلاس بحری جہاز پر نہیں ہے۔ کریک کنات نے کہا کہ گو کہ اس جہاز پر لگنے والے ویپن سسٹمز کے بارے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا، لیکن اگر یہ VLS پاکستانی بحری جہازوں پر لگائے گئے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے بڑھتے ہوئے فضائی خطرے کے حوالے سے اضافی خصوصیات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے لیے بحری جہازوں میں لگانے کے لیے ملک میں تیار کردہ ترکی کے پہلے میری ٹائم میزائل ATMACA اور گوک دینز CIWS پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ بحری جہاز پاکستان کے 40 سال سے زیادہ پرانے طارق-کلاس بحری جہازوں کی جگہ لیں گے جو پاکستان نے برطانیہ سے حاصل کیے تھے اوران کی دیکھ بھال اب ایک مہنگا کام ہے۔

کریک کنات نے یہ بھی کہا کہ یہ آبدوز شکن بحری جہاز پاکستان کی تجارت کو حفاظت دیں گے کہ جس کا 90 فیصد حصہ بحری راستے سے ہوتا ہے۔

تبصرے
Loading...