چھ ماہ میں 1.18 ارب ڈالرز کے ترک قالینوں کی فروخت

0 486

ترکی قالین برآمد کرنے والے دنیا کے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ اپنے معیار کی وجہ سے مشہور ترک قالین دنیا بھر میں گھروں کو سجا رہے ہیں۔ تقریباً 177 ممالک میں اپنی مصنوعات کی فروخت کے ساتھ رواں سال جنوری سے جون کے درمیان قالین برآمد کرنے والوں نے تقریباً 1.18 ارب ڈالرز کمائے ہے۔

ترک ایکسپورٹرز اسمبلی (TIM) کارپٹ سیکٹر کونسل کے چیئرمین صلاح الدین قپلان کے مطابق قالین برآمد کنندگان نے سالانہ اور ماہانہ دونوں بنیادوں پر اضافہ پایا۔ وہ ساؤتھ ایسٹ اناطولین کارپٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور ساؤتھ ایسٹ اناطولین ایکسپورٹرز یونین (GAIB) کے نائب چیئرمین بھی ہیں جو ترکی کی نصف سے زیادہ قالین برآمدات کرتا ہے۔

قپلان نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ وہ ملک کی معیشت کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ نتیجتاً قالین برآمدات جو جنوری سے جون 2018ء کے درمیان 1.097 ارب ڈالرز تھیں، رواں سال اسی عرصے میں 1.176 ارب ڈالرز تک پہنچیں۔ گزشتہ 12 ماہ میں قالینوں کی غیر ملکی خریداری 2.34 ارب ڈالرز تک گئی۔ "تقریباً 66 فیصد برآمدات GAIB کے ذریعے ہوئیں۔ صوبوں کے لحاظ سے غازی عنبت نے ہی 1.176 ارب میں سے 782 ملین کی برآمدات کیں۔ استنبول 281 ملین، اوشاق 43 ملین، بورصا 18 ملین اور دینزِلی 7 ملین ڈالرز کے ساتھ اس سے پیچھے رہے۔

درآمد کنندگان میں امریکا 282 ملین ڈالرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا جس کے بعد سعودی عرب 210 ملین ڈالرز کے ساتھ دوسرے جبکہ جرمنی 57 ملین ڈالرز اور عراق 45 ملین ڈالرز کے ساتھ اس کے پیچھے رہے۔ قپلان کے برطانیہ، لیبیا، مصر، متحدہ عرب امارات، ایران، کویت، اسرائیل اور بیلجیئم قالین کی صنعت کے لیے اہم ترین مارکیٹیں رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چھ مہینوں میں امریکا اور سعودی عرب کے لیے ملک کی برآمدات میں بالترتیب 5.8 فیصد اور 43.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔ "گزشتہ دو سالوں میں سعودی عرب کے معاملے میں خاصی کمی آ رہی تھی لیکن اس سال بڑي تبدیلی آئی ہے۔ عراق کا معاملہ عدم استحکام کا شکار ہے کہ جس کے لیے برآمدات میں 30 فیصد کمی آئی۔ برطانیہ کے لیے برآمدات میں 17.8 فیصد اور لیبیا کے لیے 12 فیصد اضافہ ہوا۔”

قپلان نے کہا کہ ان ممالک کے علاوہ کہ جہاں ہم برآمدات کرتے ہی ہیں، اب سال کے دوسرے حصے میں ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کو ہدف بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کرکے اس سال کے لیے 2.5 ارب ڈالرز کا ہدف حاصل کریں گے۔

تبصرے
Loading...